لاہور کی صحافی کالونی کا قابل صداحترام گھر

تحریر: امجد عثمانی۔۔

نہر کنارے لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم کے میں بلیوارڈ کا یہ گھر میرے لیےقابل صد احترام ہے۔۔یہ عہد حاضر کے شورش کاشمیری جناب حافظ شفیق الرحمان کا گھر ہے ۔۔۔اس گھر کے ڈرائنگ روم میں جب کبھی حافظ صاحب کی خدمت میں حاضری کی سعادت ملی۔۔ان کی گفتگو سنی ۔۔انگشت بدنداں رہ گیا۔۔ورطہ حیرت میں پڑ گیاک حافظ صاحب کی مجلس میں الفاظ یوں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں تو جناب آغا شورش کاشمیری اور جناب مولانا  ابوالکلام آزاد کی مجالس میں الفاظ کے ادب کا عالم کیا ہوگا۔۔؟؟؟؟حافظ صاحب آغا شورش کاشمیری سے فیض یاب ہیں اور شورش کاشمیری کو ابوالکلام کا قرب ملا۔۔یوں حافظ صاحب کو بالواسطہ مولانا ابوالکلام آزاد سےبھی نسبت رکھتے ہیں۔۔۔شاید یہی وجہ ہے ان کے لہجے میں شورش بولتے ہیں۔۔ان کے قلم سے مولانا آزاد جھلکتے ہیں۔۔نوے کی دہائی میں کالج زمانے میں حافظ صاحب کو نصاب کی طرح پڑھا ۔تب روزنامہ دن کا عروج اور حافظ صاحب کا بھی شباب تھا۔۔وہ روزنامہ دن کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے صاحب طرز کالم نویس تھے۔۔حافظ صاحب کے گھر سے مجھے اس لیے بھی انس ہےکہ اس گھر کی تعمیر  میں میرا اور میرے عزیز از جان دوست حافظ ظہیر اعوان کا تھوڑا سا کنٹری بیوشن ہے ۔۔یہی نہیں ان سے متصل زبیر صاحب کے گھر میں بھی ۔۔حافظ ظہیر کے گھر کے ساتھ ساتھ مجھے ان دونوں گھروں کے بام ودر سے بھی حافظ ظہیر کی خوشبو آتی ہے۔۔یادش بخیر ۔۔ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ بیت گیا لیکن کل کی بات لگتی ہے کہ صحافی کالونی کے مین بلیوارڈ کے دائیں جانب لین پر میاں فیاض نامی اور ان کے حواریوں  نے خود ساختہ قبضہ کر رکھا تھا۔۔ایسا قبضہ کہ ادھر کوئی آنکھ اٹھا کہ نہ دیکھتا۔۔کہہ لیں چڑیا بھی پر نہیں مارتی تھی۔۔حافظ ظہیر صاحب نے اچانک گھر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔۔ہم نے کچھ سروے کیا تو راز کھلا کہ ان لوگوں نے خود ساختہ حکم امتناعی کے نام پوری لین پر پنجے جمائے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ یہ لوگ  سنئیر صحافی حامد اکبر کی بیوہ سے کوڑیوں کے بھائو پلاٹ اینٹھ چکے ہیں۔۔یہی نہیں زبیر صاحب کو بھی گھیر دیے ہیں کہ پلاٹ بیچ دو۔۔ہم نے دیکھا کہ یہاں کوئی حکم امتناعی نہیں تو ہم دونوں دوست تن تنہا کھڑے ہو گئے۔۔ہم نےکالونی کے پٹواری اسلام صاحب سے ڈیمارکیشن کرائی تولینڈ مافیا کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔وہ عورتوں کی آڑمیں ہمارے سامنے اگیا۔۔عورتوں نے ہمیں گالیاں دیں۔۔ہماری فوٹیجز بنائیں۔۔ہم نے کہا کچھ بھی کرلیں اب  گھر بنےگا۔۔ہم نے انہیں کہا کہ  24 گھنٹے میں اس پلاٹ پر سٹے دکھا دیں ہم سرنڈر کردینگے ۔۔ میں نے  لینڈ مافیا کے مامے سے استفسار کیا کہ عالی جاہ بقول آپ کے اس لین کا اسٹے ہے تو پھر آپ نے حامد اکبر کی بیوہ سے پلاٹ کیسے خرید لیا؟آپ کو سٹے میں پلاٹ پرچیز کرنے کی اجازت ہے تو ہمیں حکومت کی جانب سے الاٹ پلاٹ پر گھر بنانے کی اجازت کیوں نہیں؟یہ انکشاف اور دلیل ان کے لیے بم شیل ثابت ہوا اور وہ بھاگ گئے ۔۔مجھے یاد ہے بھاگتے بھاگتے ایک ڈیلر صحافی کے توسط سے بیٹھ کر بات کرنے کی پیش کش بھی آئی اور پھر کہا کہ ایک لاکھ ہی دے دیں ۔۔اس پر ڈیلر صحافی کو شٹ اپ کال بھی سننا پڑی۔۔۔یہ ایسے ہی بد بخت لوگ ہیں ۔۔اپنے ہی بھائیوں کو بیچ کھا رہے ہیں۔۔۔حافظ ظہیر کا گھر بن رہا تھا تو حافظ شفیق صاحب اپنی اہلیہ محترمہ ساتھ ادھر آئے ۔۔ان کی بیگم نے بڑی حسرت سے کہا کہ آپ نے ادھر کیسے گھر کی تعمیر شروع کردی اور ساتھ ہی پوچھا کہ  کیا ہمارا گھر بھی بن سکتا ہے۔۔ہم نےکہا کہ سو فیصد کہ یہاں کوئی حکم امتناعی نہیں۔۔یہ سب خالد گھیڑا گینگ کی گھمن گھیریاں ہیں۔۔پھر الحمد للہ ناصرف حافظ شفیق صاحب بلکہ پی ٹی وی کے زبیر صاحب کا گھر بھی بن گیا۔۔مجھے یاد ہے حافظ شفیق صاحب کے گھر کی تعمیر کے بعد  میں اور حافظ ظہیر جب ان کو مبارک دینے گئے تو حافظ شفیق کی اہلیہ محترمہ  نے ہمیں خاص طور پر خوش آمدید کہا اور اظہار تشکر میں ابدیدہ ہو گئیں ۔۔یہ لمحہ بڑا رقت آمیز اتھا۔۔اپنے گھر کے خواب کی تعبیر کی گھڑی ایسی ہی جذباتی ہوتی ہے۔۔آج پھر حافظ شفیق صاحب کے گھر بیٹھے میں حافظ ظہیر کی یادوں میں کھو گیا۔۔یہ خیال ہی اشک بار کرجاتا ہے کہ لاہور میں میرا سب سے عزیز دوست صحافی کالونی کے مین بلیوارڈ کے بجائے پسرور کے بھائی دا کھوہ کے چھوٹے سے شہر خاموشاں میں ابدی نیند سو رہا ہے۔۔آج بھی جب میں برادرم طاہر عباس کے ساتھ حافظ شفیق کے گھر گیا تو لرزیدہ لرزیدہ اور نم دیدہ نم دیدہ کہ وہاں حافظ ظہیر یاد آئینگے اور دلائیں گے۔۔یہی وجہ ہے کہ میں صحافی کالونی جانے سے ہچکچاتاہوں۔   بہر حال حافظ شفیق کے ساتھ آج کی مجلس بھی بڑی دل پذیر تھی۔۔۔وہاں شورش کاشمیری کا تذکرہ ہوا ۔۔احسان دانش کے قصے چھڑے۔۔مولانا ابوالکلام آزاد کی باتیں ہوئیں۔۔تیس منٹ کی نشست دو گھنٹے پر محیط ہو گئی۔۔حافظ صاحب سے ناچاہتے ہوئے اجازت لی کہ چھ مہینے سے صاحب فراش ہیں اور ہم ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے تھے۔۔حافظ صاحب نے الوداع کرتے سلیم طاہر کا شعر سنا کر اداس کر دیا کہ زندگی کی حقیقت یہی ہے لیکن ہم افسانوں میں کھو کر انجام زندگی ہی بھول گئے ہیں ۔۔

وقت کی بارشوں نے پھیکا کر دیا چہرے کا رنگ

عمر کی ندی میں سارا حسن گھل کر بہہ گیا

  صحافی کالونی میں مقیم اپنے گرائیں بابا مزمل گجر کے گھر بیٹھے بھی حافظ شفیق الرحمان ہی ہمارا موضوع تھے کہ ہمارے پاس ایسے چند اکابرین صحافت کے سوا بچا ہی کیا ہےکہ جس کا تذکرہ ہو۔۔۔۔۔حافظ صاحب سلامت رہیں ۔۔۔۔(امجدعثمانی)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں