لاہور پریس کلب کسی سیاسی جماعت کا میڈیا سیل نہیں بنے گا، پی یوجے۔۔

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے لاہور پریس کلب کے انتخابات پر اثر انداز ہونے اور صحافیوں کی تضحیک کرنے پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اطلاعات کے غیر شائستہ اور اپنے منصب کے منافی طرز تکلم اور انتہائی سطحی الزامات کی پرزور مذمت کی گئی ۔ایگزیکٹو کونسل کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب آزادیء اظہار کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سیاسی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا ۔یہ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا وہ مرکز ہے جو کبھی سیاسی یا حکومتی دبائوکا شکار نہیں ہوا ۔عظمیٰ بخاری نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے لاہور پریس کلب منہاج برنا یا نثار عثمانی کے نظریات کا محافظ ہونے کی بجائے سرکارکا گماشتہ ہے۔ ایگزیکٹو کونسل نے کہا کہ ہم محترمہ عظمیٰ بخاری کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ اس وقت بھی آزادی ء صحافت کے علمبرداروں کا گھر تھا جب وہ شریف خاندان پر تبرہ کیا کرتی تھیں اور یہ اب بھی آزادی اظہار رائے کی علامت ہے جب انہیں شریف خاندان درجہ ولایت پر فائز دکھائی دیتا ہے اور وہ بھٹو تاریخ کے کٹہرے میں نظر آتا ہے جس کے نظریات کبھی ان کی سوچ کا مظہر ہوا کرتے تھے ۔ جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ لاہور پریس کلب نہ تو کل کسی سیاسی جماعت کا گماشتہ تھا اور نہ ہی آج کوئی سیاسی قوت یا سرکار اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے ،ہم کل بھی سچائی کا آئینہ تھے اور آج بھی اس آئینے کو دھندلا نہیں ہونے دیا۔اگر محترمہ کو اس آئینے میں اپنے چہرے کے داغ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں قصور آئینے کا نہیں بلکہ اخلاقیات سے گرنے کی اس کالک کا ہے جس میں مسلسل کچھ کردار اپنے ضمیر ، روح اور وجود تک لتھڑے ہوئے ہیں ۔اس آئینے کو کالی بھیڑ یا ایسا کوئی اور لقب دینا یا اس کے عکس کو برا کہنا درحقیقت اپنے اندر کی گندگی پر تبصرہ کرنا ہے ۔ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کی کہ نابالغ سیاسی رہنما اور حادثاتی وزیر اطلاعات کو کسی بھی طور پر آزادی ء صحافت کی علامت لاہورپریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔یہ کل بھی آزادانہ سوچ اور اظہار رائے رکھنے والوں کا مرکز تھا اور انشا اللہ آئندہ بھی سچائی کی علامت کے طور پر جانا جائے گا ۔ جب تک نثار عثمانی اور منہاج برنا کی سوچ کے وارث اور قلم کی حرمت کے پاسبان زندہ ہیں ،لاہور پریس کلب کسی سیاسی جماعت کا میڈیا سیل نہیں بنے گا ۔اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ جب وزیر اطلاعات یہ مغلظات بک رہی تھیں تو اس وقت صدر لاہور پریس کلب محترم ارشد انصاری وہاں تشریف فرما تھے لیکن ان کی جانب سے نہ تو لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کو کالی بھیڑیں یا شرپسند کہنے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ، نہ ہی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آپ تو سیاستدان ہیں لاہور پریس کلب کے انتخابات یا کسی بھی صحافتی تنظیم کے انتخاب کی ڈیڈ لائن کیسے دے سکتی ہیں ۔ایگزیکٹو کونسل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عہدے دار ہمارے لئے برابر ہیں ۔ہم کوریج کے معاملے یا اظہار رائے کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں رکھتے۔لہٰذا واضح کیا جاتا ہے کہ اہل قلم یا پاسبان حرف و حق کا کردار پوری ذمہ داری سے نبھاتے رہیں گے ۔ایگزیکٹو کونسل نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) محترم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کا کہا ہے تاکہ صحافتی اداروں کی یہ روایت برقرار رہ سکے کہ وہ کسی سیاسی دبائو میں آئے بغیر حق گوئی کا فرض نبھائیں۔اجلاس کے آخر پر یہ بھی کہا گیا کہ آزادی صحافت کے سپاہی اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے اور کسی بھی طور دبائو میں آئے بغیر وہ فرض نبھائیں گے جو اس قوم نے ان کے سپرد کیا ہے ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں