لاہور پریس کلب کی آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے زیر اہتمام لائف ممبر،20 کتابوں کی مصنفہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان کے اعزاز میں شام رکھی گئی۔اس تقریب کی صدارت لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان ہمارے ساتھ رپورٹنگ کا حصہ رہیں، ان کی صحافتی خدمات کیساتھ ان کی ادبی خدمات بھی قابلِ رشک ہیں۔ ہم عارفہ صبح خان کو پریس کلب میں ہمیشہ ویلکم کہتے رہیں گے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز سلمان رسول نے تلاوت سے کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سینئر صحافی سعید اختر نے انجام دیئے۔سٹیج پر صدر ارشد انصاری، ڈاکٹر عارفہ صبح خان، اختر عباس، کنول نسیم اور آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی بھی موجود تھے۔ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے اپنی یادیں شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 1990ء کے اوائل میں ادارہ جنگ کے ساتھ وابستہ ہوئیں جہاں وہ پہلے غلطیاں پکڑنے پر مامور رہیں بعد ازاں رپورٹنگ سیکشن میں آ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مظفر محمد علی نے مجھے اپنی کتاب بیس برس کی عمر میں نہ چھپوانے کا مشورہ دیا تھا جو بالکل صحیح تھا اور وہ کتاب پھر بارہ برس بعد شائع ہوئی۔انہوں نے گفتگو میں بتایا کہ جب نوائے وقت میں گئیں تو وہ ادارہ سسرال جیسا لگا، مگرمجید نظامی اور عباس اطہر نے بیٹیوں جیسا سلوک کیا۔مجید نظامی نے مجھے صحافت کی شیرنی کا خطاب دیا۔ایک بار ایک سیاسی شخصیت کا انٹرویو کر کے لائی تو نوائے وقت کے اس وقت کے چیف رپورٹر نے اسے توڑ مروڑ کر شائع کرا دیا نظامی صاحب کو حقیقت بتائی تو انہوں نے اس شخص کی سرزنش کی۔ ڈاکٹر عارفہ کے بارے میں کنول نسیم، قمرالزمان بھٹی، عدنان ملک، اختر عباس،نواز کھرل اور ان کے شوہر ظفر آفتاب نے بھی اظہار خیال کیا۔تقریب میں خالد بہزاد ہاشمی، بابا نجمی،پروفیسر مشکور صدیقی، عمر شریف، قیوم زاہد، غلام زہرہ، عندلیب اسد بھٹی، صباممتاز بانو، عمران نومی،محمد عبداللہ،فریدہ خانم،شفقت حسین،اقبال بخاری،مظہر علی اور شہزاد فراموش کے ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھر پور شرکت کی۔
لاہور پریس کلب میں ڈاکٹر عارفہ صبح خان کے اعزاز میں شام
Facebook Comments
