فیک نیوزپھیلانے والوں پر اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت کارروائی کا فیصلہ۔۔

وزارت داخلہ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کردیا، سائبر کرائمز بھی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کردیے گئے، چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار مل گیا، این سی سی آئی اے اب سائبر دہشت گردی اور الیکٹرانک فراڈ کی تحقیقات بھی کرے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق غلط اور جعلی معلومات پھیلانے کی سزا اب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دی جائے گی، غلط معلومات کے ذریعے سوشل میڈیا سے پیسہ کمانے والے بھی زد میں آئیں گے۔نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سوشل میڈیا سے حاصل پیسوں کی تحقیقات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کرے گی۔وزارت داخلہ کے مطابق ترمیم کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور مؤثر کارروائی ہے۔یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے رواں سال اپریل میں پیکا ایکٹ کے تحت اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) تشکیل دی تھی۔اس حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ پریوینشن آف دی الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کی دفعہ 29 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو قائم کیا گیا ہے، جس کا اطلاق 4 اپریل 2025 سے ہوگا۔واضح رہے کہ 4 اپریل کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر وقارالدین سید کو تعینات کیا گیا ہے، جو اس سے قبل ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل کے ڈائریکٹر رہ چکے تھے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں