معروف و سینئر اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے حالیہ انٹرویو میں خواتین کی کمائی، مردوں کے کردار، اور ازدواجی زندگی میں باہمی احترام پر کھل کر بات کی، حال ہی میں ثمینہ پیرزادہ نے نجی یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیا جس کے مختلف مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔وائرل کلپس میں سے ایک میں صحافی نے سینئر اداکارہ سے عورتوں کی کمائی میں برکت نہ ہونے سے متعلق خیالات معلوم کیے۔ثمینہ پیرزادہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی مرد اُٹھ کر میرے لیے دروازہ کھول رہا ہے یا نہیں، لیکن اگر کوئی مرد ایسا کرتا ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی ماں نے اس کی تربیت کتنی اچھی کی ہے کہ وہ خواتین کا احترام کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ”اگر عثمان میرے لیے دروازہ کھولتے ہیں تو میں کہتی ہوں، ’امی! یو ڈان آ گڈ جاب‘۔ یہ عزت، شفقت اور تربیت کی علامت ہے۔ثمینہ پیرزادہ نے خواتین کی کمائی کو بے برکت قرار دینے والوں کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا،”یہ سب باتیں بکواس ہیں۔ برکت کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں، بلکہ حلال و حرام، خلوص اور محنت سے ہے۔ اگر میری کمائی میں برکت نہ ہوتی تو میں اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم کیسے دیتی؟۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اور ان کے شوہر عثمان پیرزادہ نے اپنی ازدواجی زندگی میں تمام ذمہ داریاں بانٹیں،“میں نے بیٹیوں کو تعلیم دی، عثمان نے گھر بنایا۔ ہم نے ایک دوسرے کو سپورٹ کیا، اپنے اور ایک دوسرے کے خاندان کا خیال رکھا۔ شادی، محبت اور ذمہ داری کا نام ہے۔ثمینہ پیرزادہ نے اپنی زندگی کی جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا رشتہ نہ صرف محبت پر مبنی ہے بلکہ اس میں احترام اور تعاون بھی شامل ہے۔اگر عثمان اپنے خاندان کی مدد کرنا چاہتے تھے تو میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ اسی طرح وہ میری والدہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی دیکھ بھال میں ہمیشہ شریک رہے۔انہوں نے کہا کہ ازدواجی زندگی میں دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے خاندان کا احترام کرنا چاہیے، میں اپنے شوہر کے خاندان کا ساتھ دیتی ہوں اور وہ بھی میری والدہ کی دیکھ بھال میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ثمینہ پیرزادہ نے کہا کہ مجھے ایک بار کسی نے سمجھایا تھا کہ شادی شدہ زندگی میں اگر ایک فریق کو غصہ آئے تو دوسرے کو نہیں آنا چاہیے، یہی چیز رشتے کو کامیاب بناتی ہے۔انہوں نے اپنی ساس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھی خاتون تھیں جنہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور جو ساسیں ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں، ویسی اصل میں بہت کم ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی فنکار پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہیے، جو کچھ وہ سوچتا یا لکھتا ہے، اسے آزادی حاصل ہونی چاہیے، ہمارے ملک کے ہر شہری کو بھی اپنی رائے کے اظہار کا حق ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ملک ہمارا گھر ہے اور جیسے ہم اپنے گھر کو سنوارتے ہیں، ویسے ہی ہم اپنے ملک کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ثمینہ پیرزادہ نے بتایا کہ کیریئر کے آغاز میں انہیں یہ بھی سننے کو ملا کہ ان کے پاس صرف خوبصورت شکل ہے، جس کے بعد میں نے سوچا کہ انہیں غلط ثابت کرنا ہے اور میں نے کر دکھایا۔شوبز انڈسٹری میں ہراسانی کے واقعات سے متعلق ثمینہ پیرزادہ نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں تو ایسا نہیں ہوتا، لیکن ٹیلی ویژن انڈسٹری میں کئی بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں، میں نے ان کے خلاف آواز بھی بلند کی ہے اور کرتی رہتی ہوں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میں نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آواز بلند کروں۔
فلم انڈسٹری میں نہیں ،ٹی وی انڈسٹری میں ہراسانی کے واقعات پیش آتے ہیں، ثمینہ پیرزادہ۔۔۔
Facebook Comments
