صحافیوں کے خلاف ریاست کی جانب سے آزادی اظہار رائے کو خاموش کرنے کے قانون نے حکومت کی ساکھ کو مجروح کرنے کے علاوہ ملک میں خوف کی موجودہ فضا کو جنم دیا ہے۔ تازہ ترین مثال میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 31 اکتوبر کو صحافی مطیع اللہ جان پر منشیات کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے ایک مقدمے میں اُن کا ٹرائل اُسی دن سے شروع ہوگا۔ مطیع اللہ جان پر گزشتہ سال منشیات رکھنے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جرائم کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس میں ایک پولیس اہلکار پر حملہ بھی شامل تھا۔ اس پیشرفت نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں غم و غصے کو جنم دیا ہے جنہوں نے نہ صرف منشیات کی سمگلنگ کے من گھڑت اور بے بنیاد کیس کی مذمت کی اور اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صحافیوں کو خوف کے بغیر کام کرنے کی آزادی حاصل ہو سکے۔ لیکن حکمرانوں میں مکالمے اور برداشت کی خوبیاں ختم ہو جاتی ہیں۔پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مطیع اللہ جان کے اغوا کو مسترد کرتے ہوئے ان پر “ڈالر کے عوض جعلی خبریں” پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے باوجود ایف آئی آر میں اُن کی اس دلیل کو کوئی جگہ نہیں ملی۔ جہاں صحافی ہر وقت خطرات کی زد میں ہوں، ریاست کو مستقل طور پر قانون کو ہتھیار بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ گھسے پٹے استعمال شدہ پلے بک والے ہتک آمیز الزامات نظام انصاف کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب غیرمنتخب عناصر کا سیاسی رسوخ مقدمات/ٹرائل پر اثرانداز ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں اختیارات رکھنے والوں اور نظام پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ لاتعداد صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سیاسی کارکنوں نے ایسا سلوک برداشت کیا ہے۔ لہٰذا سچائی، آزادی اور میڈیا کو ہراساں کرنے کے خاتمے کا نعرہ ہر ظلم کے ساتھ مزید بلند ہوتا جاتا ہے۔ بار بار قانون کے غلط استعمال، پریس کے ساتھ ہیرا پھیری اور اختلافی آوازوں کی دھجیاں اڑانے سے جھوٹی داستانوں/فیک نیوز کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جو جعلی/جھوٹی خبروں کے خاتمے کی نیم دلی سے کی گئی کوششوں کے مقصد کو ناکام بناتی ہے۔ سیاسی پولرائزیشن، جبر اور معاشی چیلنجز کے ماحول میں رواداری کی کمی عدم تحفظ کو ظاہر کرتی ہے۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے آزادیوں کا تحفظ ضروری ہے۔
