عید سے پہلے تنخواہیں نہ دینے والے میڈیا ہاؤسزکو واجبات کلیئر نہ کرنے کا فیصلہ۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے وفاقی حکومت کی جانب سے میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگیاں یقینی بنانے کے لیے اداروں کے بقایاجات ورکرز کی تنخواہوں سے مشروط کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوءے توقع ظاہر کی ہے کہ اس پالیسی پر من و عن عمل بهی کیا جاءے گا۔ آئی ایف جے اور پی ایف یوجے کی جانب سے تنخواہوں کی عدم اداءیگی اور جنگ گروپ کی جانب سے دی نیوز اور جنگ راولپنڈی میں سے ورکرز کی جبری برطرفیوں کی نشاندہی پر بھی وفاقی حکومت نے نوٹس لے لیا ہے۔ وفاقی حکومت 30 جون سے قبل تمام میڈیا اداروں کو 1 ارب 50 کروڑ روپے کے بقایا جات کلیئر کر دے گی لیکن کسی ایسے ادارے کو ایک پائی کی ادائیگی نہیں کرے گی جو عید سے قبل صحافیوں اور میڈیا وکرز کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں کریگا، وفاقی حکومت کے ترجمان پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن سے جمعرات کے روز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد کی سربراہی میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی اور وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ ملاقات میں کہا کہ وفاقی حکومت نے میڈیا اداروں کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی ادائیگیاں اور کارکنوں کے بقایا جات اور تنخواہوں سے مشروط کردی ہیں اور اس سلسلے میں تمام میڈیا مالکان کو پہلے آگاہ کر دیا گیا ہے صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اداروں جن میں بروقت تنخواہوں اور کارکنوں کے بقایا جات ادا نہیں ہورہے یا کارکنوں کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور آرآئی یو جے کے صدر طارق عثمانی نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز سے جبری طور پر نوکریوں سے نکالے گئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برخاستگی کی نشاندہی کی تو پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات ان کارکنوں کی نوکریوں پر بحالی اور این آئی آر سی کے عدالتی فیصلوں پر عملدآمد کروانے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کریگی اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے۔ جلد اس ایشو پر پیش رفت ہوگی انہوں نے پاکستان فیڈرل يونين آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت کو یقین دلایا کہ وزارت اطلاعات جنگ نیوز کے برطرف ملازمین کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریگی۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز کی انتظامیہ سے رابطہ سے رابطہ کیا ہے جب پی آئی او کے نوٹس میں لایا گیا کہ ہمیشہ بڑے اخبارات کے بقایا تو کلیئر کردئے جاتے ہیں لیکن ریجنل اور چھوٹے اخبارات کو ادائیگیاں تاخیر سے کی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ اب ایسی شکایت نہیں آئے گی پی آئی ڈی کے اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ کو برابری کی سطح پر ادائیگیوں کی ہدایت دی گئی ہے مبشر حسن نے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں، بقایاجات کی ادائیگیوں کو اشتہارات اور بقایا جات کی ادائیگیوں سے مشروط کرنے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد ہوگا عید سے قبل بھی میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی ادائیگیوں پر عمل در آمد کرایا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں