سوشل میڈیا پر خبریں ہیں کہ عمران خان نے جیل میں صحافی اعجاز احمد سے تلخ رویے پر معذر ت کر لی ہے ۔تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی رضوان غلزئی نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ’’عمران خان نے جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی اعجاز احمد سے معذرت کی اور کہا کہ میں میڈیا کی مشکلات سے واقف ہوں ،میڈیا مجبور ہے ،میں میڈیا ورکرز اور رپورٹرز کے بالکل خلاف نہیں ہوں، اگر اس دن آپ کو میری بات سے دکھ پہنچا تو میں معذرت خواہ ہوں۔ واضح رہے کہ انتیس ستمبر کو عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی پر پاکستان کی پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے) نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا،واک آؤٹ کے دوران صحافیوں نے مؤقف اپنایا کہ ایسے رویے سے نہ صرف صحافیوں کی تضحیک ہوئی ہے بلکہ پارلیمانی اقدار بھی مجروح ہوئی ہیں۔ صحافی اعجاز احمدکے مطابق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے سوال پوچھنے پر مجھے گالیاں دیں۔عمران خان کی جانب سے صحافی سے بدتمیزی اور نازیبا الفاظ کے استعمال پر قومی اسمبلی میں مزمتی قراردادبھی جمع کرائی گئی۔قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں وزارت داخلہ کو صحافی کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ صحافی کو دھکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان صحافی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں ناشائستہ گفتگو اور دھمکیوں کی مذمت کرتا ہے، نہ صرف بدسلوکی کی گئی بلکہ سوشل میڈیا پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل میں غیر شائستہ الفاظ اور غیر مہذب و غیر اخلاقی رویے کو مذمت کرتا ہے۔یہ ایوان اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ عمران احمد نیازی نے سینئر صحافی کے ساتھ غیر مہذب سلوک کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف کارروائی کے لیے یہ اعوان اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کریں تاکہ سینیئر صحافی کے خلاف مزید سرودھی اور تضحیک آمیز رویے کے سدباب کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوان حکومت کو ہدایت کرتا ہے کہ یہ معاملہ فوری طور پر ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کو بھیجا جائے تاکہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ میڈیا پرسنز کو بھی اس طرح کی کسی بھی غیر مناسب صورتحال کا شکار نہ ہونا پڑے۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
