علیمہ خان پر انڈے سے حملہ،میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث کا جنم۔۔۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان پر انڈے سے حملہ جمعہ کے روز سرخیوں میں رہا، لیکن اصل بحث اس وقت چھڑ گئی جب ڈان نیوز کی اینکر نے رپورٹ میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا نام لینے سے گریز کیا اور میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث کو جنم دیا۔واقعے کی کوریج کے دوران ڈان نیوز ٹی وی کی اینکر نے توجہ اس بات پر مبذول کرائی کہ انہوں نے نہ عمران خان اور نہ ہی ان کی جماعت تحریک انصاف کا نام لیا۔ اس کے بجائے انہوں نے علیمہ خان کو صرف “بانی کی بہن” قرار دیا اور جماعت کا حوالہ مکمل طور پر چھوڑ دیا۔اینکر نے یہ جملہ دوبارہ رپورٹنگ کے وقت بھی دہرایا اور پی ٹی آئی کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا۔گزشتہ تقریباً دو برسوں سے پاکستان کا بیشتر مرکزی الیکٹرانک میڈیا پی ٹی آئی کے بانی کا نام لینے سے اجتناب کرتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ایسے کسی حکم نامے کی تردید کی ہے۔ نومبر 2024 میں پیمرا نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ عمران خان کا نام لینے پر کوئی پابندی عائد کرنے والی ہدایت یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ٹی وی اینکرز کی جانب سے پی ٹی آئی کے بانی کے ذکر پر خاموشی پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں اظہارِ رائے کی آزادی، ادارتی فیصلوں اور سیاسی حساسیت پر بحث کو مسلسل ہوا دے رہی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں