punjab ki most media friendly wzeer e ittelat

عظمیٰ بخاری پر لاہور پریس کلب میں مداخلت کا الزام۔۔۔

لاہور پریس کلب کے انتخابات سے دو روز قبل پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات نے لاہور پریس کلب کے سابق صدر ارشد انصاری کو اجلاس میں مدعو کر لیا، ارشد انصاری اس بار بھی صدر کے امیدوار ہیں،جس پر لاہور کے صحافیوں نے عظمیٰ بخاری پر لاہور پریس کلب میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عظمیٰ بخاری کو چاہئے کہ خود لاہور پریس کلب کی باڈی نامزد کر کے نوٹفکیشن جاری کر دیں۔۔وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری کی زیر صدارت جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 14واں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، ایم پی اے بلال یامین ستی، ڈپٹی سیکرٹری عدنان رشید، پاکستان جرنلسٹس فاؤنڈیشن کے اسد حسین اور محمد یٰسین نے شرکت کی۔اجلاس میں جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ نے متفقہ طور پر صحافی کالونی فیز ٹو کے ماسٹر پلان کی منظوری دے دی۔سیکرٹری اطلاعات پنجاب طاہر رضا ہمدانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہاؤسنگ کالونی میں جدید سہولیات کے تحت اسکول، 40 فٹ سے 100 فٹ چوڑی سڑکیں، کمرشل ایریاز اور پارکس تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 400 ملین روپے روڈا کو ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ زمین کی خریداری کا عمل تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔ زمین سیکشن فور کے تحت روڈا سے حاصل کی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے تحت 5 مرلہ کے 3200 پلاٹس صحافیوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور کے 3200 صحافیوں کو اپنی چھت فراہم کرنے جا رہی ہیں اور فروری میں وزیراعلیٰ خود صحافیوں کو الاٹمنٹ لیٹرز دیں گی۔عظمٰی بخاری نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت خلوصِ نیت سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے رہائشی سہولت فراہم کر رہی ہے، تاہم بدقسمتی سے کچھ عناصر صحافت کے لبادے میں اپنے ہی صحافی بھائیوں کے مستقبل کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو شرم آنی چاہیے جو صحافیوں کے بچوں کے مستقبل کو ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو واضح پیغام ہے کہ صحافیوں کی چھت پر گندی سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے میڈیا ونگ کی جانب سے صحافی کالونی فیز ٹو کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم آئندہ چند دنوں میں ایسے عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ اس موقع پر انہوں نے لاہور پریس کلب کی موجودہ انتظامیہ کے تعاون کو بھی سراہا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ صحافی کالونی فیز ٹو کے 1400 صحافی ممبران اپنے ڈویلپمنٹ چارجز کے ایڈوانس جمع کروا چکے ہیں جبکہ وزارت اطلاعات پنجاب کے 635 ملازمین نے بھی ایڈوانس چارجز جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی ممبران بھی جلد اپنے واجبات جمع کروائیں۔عظمٰی بخاری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ 3200 صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نان ممبران کی بیلٹنگ کا عمل مکمل شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور مافیا یا پریشر گروپس بنا کر حکومت کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راولپنڈی اور ملتان کی جرنلسٹ ہاؤسنگ اسکیموں کے معاملات آئندہ اجلاس تک مؤخر رہیں گے جبکہ ملتان پریس کلب سے کونسل ممبران صحافیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ مزید برآں، لاہور کی صحافی کالونی میں ایل ڈی اے کے کمرشل پلان کو بھی اپنانے کی منظوری دی گئی۔آخر میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا کہ تمام پریس کلبز دسمبر سے جنوری کے دوران اپنے انتخابات کرانے کے پابند ہوں گے۔عظمیٰ بخاری کے بیان اور امیدوار برائے صدر ارشد انصاری کے اجلاس میں شرکت پر لاہور کے صحافیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، امیدوار برائے سیکرٹری جنرل لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں پنجاب حکومت کی اس قدر کھلی مداخلت سے تو بہتر تھا کہ وہ کلب میں پنجاب اسمبلی کے ممبرز پر مشتمل اپنا پینل ہی دے دیتی،پستی کا حد سے گزرنا دیکھو۔۔مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی صحافیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور عظمیٰ بخاری کے عمل کو لاہور پریس کلب کے انتخابات میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ بخاری ڈی جی پی آر سے نوٹفکیشن جاری کروا کر پریس کلب کی باڈی منتخب کر دیں۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں