تحریر: عرفان ساگر
یہ شہر روشنیوں کا، خبروں کا، اور تصویروں کا شہر ہے۔ مگر ان روشنیوں کے پیچھے جو لوگ اپنی آنکھوں کی بینائی جلا دیتے ہیں، وہی ہمیشہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔عاصم رحمانی بھی انہی میں سے تھا — روزنامہ قومی اخبار کا سابق چیف فوٹوگرافر، کراچی پریس کلب، پی ایف یو جے، کے یو جے اور پیپ کا سینئر ممبر جو ہفتے کی شب مختصر علالت کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ڈینگی بخار نے کمزور کیا، گھر سے اسپتال جاتے ہوئے سانس ٹوٹ گئی۔
نمازِ جنازہ ملیر اے ون ایریا کی جامع مسجد قادریہ میں ادا ہوئی، تدفین ائیرپورٹ روڈ ماڈل کالونی قبرستان میں ہوئی۔ اور وہاں؟ نہ کوئی “تنظیمی لیڈر”، نہ قومی اخبار کا نمائندہ، نہ ہی صحافتی شعبے کے بڑے بڑے نام۔
بس چند فوٹوگرافر بھائی — صدر پیپ محمدجمیل،سیکریٹری نعمان نظامی،سید اطہر حسین،فیصل مجیب، محمد بیگ،آصف راٹھور، عمران علی،شکیل قریشی،آصف حسن اورشاہ زیب جو اپنے ساتھی کے دکھ میں شریک ہوئے۔
فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا تھا:
“ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد،
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد!”
یہ شعر عاصم رحمانی کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔
جس ادارے کو اس نے جوانی دی، وہ ادارہ خاموش۔
جس پیشے کو اس نے خدمت سمجھ کر نبھایا، وہ پیشہ بےحس۔
قومی اخبار سے واجبات تک نہ ملے، اور مالکان نے تو تعزیت کے دو لفظ بھی ادا نہ کیے۔
بس ایک زاہد قریشی، جو ذاتی تعلق کی بنیاد پر جنازے میں پہنچا۔
اور اب آتے ہیں ان “ارب پتی دوستوں” پر — وہی جن کے کاروباری لانچز، دعوتیں، محفلیں اور خوشیوں کے لمحات وہ کیمرے کی آنکھ سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتا رہا۔جنہیں وہ “بھائی” کہہ کر یاد کرتا تھا،
جنہوں نے کئی بار سب کے سامنے کہا، “عاصم ہمارا دوست ہے، ہمارا بھائی ہے!”
مگر جب اس بھائی کا جنازہ اٹھا… تو کوئی نہیں آیا۔
نہ کوئی لگژری کار، نہ کوئی مصنوعی افسوس۔
شاید ان ارب پتیوں کے پاس وقت نہیں تھا — یا شاید غمِ دوست ان کے کیلنڈر میں فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔
واہ ری دنیا! کوئی اچھی تصویربنائے تو “فوٹو بائی لائن” ملتی ہے لیکن جب وہ مر جائے تو کہنے کوایک لائن بھی نہیں ملتی۔
جون ایلیا نے کہا تھا:
“میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس،
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں!”
یہی کیفیت عاصم رحمانی کی تھی۔
دیانت، خلوص، محنت — سب کچھ اس نے دیا۔
مگر بدلے میں ملا صرف سکوت۔
کراچی پریس کلب، پی ایف یو جے، کے یو جے، پیپ — سب تنظیموں کی فہرست میں اس کا نام درج تھا،
مگر کسی نے جنازےمیں آنا گوارا نہ کیا۔ ہاں، فوٹوگرافرز موجود تھے، وہی جنہیں صحافت کا سب سے نچلاطبقہ سمجھا جاتا ہے لیکن جب انسانیت کی بات آتی ہے تویہی نچلا طبقہ سب سے اوپرنکل جاتا ہے۔
ناصر کاظمی نے کہا تھا:
“دل تو اپنا اداس ہے ناصر، شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے”
ہاں، آج کراچی واقعی سائیں سائیں کر رہا تھا۔ کیونکہ ایک فوٹوگرافر کا جنازہ اٹھ رہا تھا — اور کیمروں کی چمک بجھ چکی تھی۔ یہ واقعہ ایک فرد کی موت نہیں، یہ صحافتی ضمیر کی تدفین ہے۔ عاصم رحمانی چلا گیا، مگر ایک سوال چھوڑ گیا: کیا ہم واقعی صحافت کرتے ہیں یا صرف مفادات کی تصویریں کھینچتےہیں؟(عرفان ساگر)۔۔
