میری  معافی حاضر ہے، بس تھوڑی اسپیس چاہیئے، سہیل وڑائچ۔۔

عاجز صحافی اور شاہ کے وفادار

تحریر: سہیل وڑائچ۔۔

لاطینی اصطلاح Persona Non grata یعنی ناپسندیدہ شخص کی اصطلاح آج کل اس عاجز اور حقیر پر لاگو کی جارہی ہے لندن میں پاکستان اوورسیز فائونڈیشن کا کنونشن تھا، وزیراعظم شہباز شریف مہمان خصوصی تھے، بڑی ردّ وقدح کے بعد مجھے دعوت نامہ بھیجا گیا مگر پھر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے پیغام بھیجا کہ براہ کرم تشریف نہ لائیں آپ کے اس اجلاس میں آنے پر پابندی ہے گویا اطلاعات اور رسائی کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ یہ عاجزاس پر بھرپور احتجاج کرتا ہے اور اس ناروا زیادتی پر متعلقہ افراد سے معافی کا حق رکھتا ہے۔

میں نے ایک کالم لکھا جس پر پہلے تحریک انصاف نے تبرے بھیجے پھر آئی ایس پی آر نے اسکی وضاحت کی جواباً اس عاجز نے بھی جواب الجواب تحریر کیا اور میرے خیال میں معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا مگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے مجھے باغی اور راندہ درگاہ بنا دیا ہے۔ میں ان میں سے نہیں جو اداروں سے کسی جنگ یا کشمکش کے خواہاں ہوں، میں وہ بھی نہیں کہ جو اپنی مادر دھرتی کے مفادات کیخلاف مہم چلاؤں، میں وہ بھی نہیں جو پہلے خلائی پروازوں سے چینلوں میں نوکری پاتے تھے، خلانوردوں سے خبریں اور جھوٹی رپورٹیں لیکر اہل سیاست اور صحافت کو بدنام کرتے تھے، اس عاجز نے صحافت کی ایک ایک سیڑھی برسوں کی ریاضت سے طے کی ہے ہمیشہ توازن اور اعتدال کو مدنظر رکھا ہے اختلاف رائے کیا ہے مگر کبھی احترام کے دائرے کو عبور نہیں کیا۔

سیاست دانوں پر پھبتی کسی ہے مگر کسی کا جھوٹا اسکینڈل نہیں بنایا اورنہ کبھی اسے ڈسکس کیا ۔ اس عاجز کو اِدھر اُدھر سے بہت بھڑکایا گیا ایک نے مشورہ دیا کہ واپس وطن نہ جانا ایئرپورٹ سے ہی گرفتار ہوجاؤ گے مگر میں نےایسا کیا کیا تھا میں ڈرپوک ڈرتے ڈرتے پاکستان پہنچا تو کسی نے نہ ہاتھ لگایا اور نہ کوئی کچھ پوچھ گچھ ہوئی۔ کچھ نے کہا اب تمہاری کوئی معافی نہیں مگر عاجز کو اپنی دھرتی کی مٹی پر یقین اور فخر ہے کہ وہ اپنے باسی کو کبھی ناپسندیدہ شخص قرار نہیں دے گی کہ اس عاجز نے ہمیشہ بڑے لوگوں نہیں، عام لوگوں سے اپنی سوگند نبھائی ہے کبھی اطلاعات اور سچ میں ملاوٹ نہیں کی، آراء کا اختلاف تو باعث رحمت ہوتا ہے اگر اختلاف رائےکرنے پر بھی Persona Non grataبنانا ہے تو پھر یہ ڈرپوک اس سزا کو بھی اپنی آخرت کا توشہ سمجھ کر قبول کرے گا ۔

مجھے کامل یقین ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس عاجز کے بارے میں کوئی ایسی ہدایت نہیں دی ہوگی، میں انکو جانتا ہوں اسلئے ان سےایسی امید نہیں مگر مجھے روکنے کیلئے وزیراعظم کانام استعمال کیاگیااور کہا گیا وہ اِس عاجز اور منہ کالے کو دیکھ کر ناراض ہوں گے ۔ یہ فرمان ایک سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار نے جاری کیا، دعوت نامہ جاری کرنیوالے سب انکاری ہوگئے کہ وہ اس ناہنجار کو جانتے بھی ہیں اگر ضمیر اور اصول کی کوئی پسلی ہوتی تو یہ بتا تو دیتے کہ دعوت نامہ اور شرکت کی خصوصی درخواست بھجوا کر یوں انکار کرنا کتنا نامناسب ہوگا۔

نہ چھیڑ ملنگاں نوں۔ کونے میں بیٹھے دہی کھانے والوں پر گھات نہ لگائیں کیوں کوئی سازشی مجھ ناچیز کو بانس پر چڑھا کر نیچے گرانا چاہتا ہے۔ خاکساروں کو ٹھوکرلگائی تو ٹھوکر لگانیوالے کی خاک ہی اڑے گی۔ طاقتوروں اور کمزور کی لڑائی میں جیتے گا تو طاقتور مگر کمزور کی آہ فتح کے نشے کو اڑا دیتی ہے، کمزور کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو وہ ریت تو آنکھوں میں پھینک سکتا ہے قلم کار نہتا اور مسکین ہو تو تب بھی لفظوں کا ذخیرہ اس کے پاس ہر وقت موجود ہوتا ہے کیوں بے مقصد لڑائی چھیڑنا چاہتے ہیں کون ہے جو اس کھیل سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟

آج کل کا سوشل میڈیا اور یوٹیوبر رائی کا پہاڑ بنا نے کے ماہر ہیں بات چھوٹی سی اور رائی جتنی ہوتی ہے مگر اسے بار بار کھینچ کر مصنوعی پہاڑ جتنا بنا دیا جاتا ہے ۔افسوس تو یہ ہے کہ حکمران طبقات اصل کی رائی دیکھنے کی بجائے جھوٹ کے پہاڑ پر یقین کر لیتے ہیں اور پھر اس جھوٹ کا ابطال شروع کر دیتے ہیں جس کا اصل میں وجود بھی نہیں ہوتا۔ اگر رائی کو رائی سمجھا، لکھا اور پڑھا جائے تو میڈیا کو ہضم کرنا اور برداشت کرنا آسان ہو جائے گا ۔سوشل میڈیا کی مہم ایک طوفان کی طرح اٹھتی ہے اور بول و براز کی طرح بیٹھ جاتی ہے ایک ہفتے بعد سب کو پہاڑ یاد ہی نہیں رہتا مگر جو اس مہم کا ہدف اور نشانہ بنتا ہے اس سے تکلیف و درد کی کراہیں دیر تک جاری رہتی ہیں ،اس کو لگی آگ کا دھواں جلدی ختم نہیں ہوتا۔ میرے معاملے کو بھی رائی ہی رہنے دیا جائے جو بھی اسے پہاڑ بنا رہا ہےاسے ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لندن کی فضامیں اہل وطن کی آپس میں لڑائیاں دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ سیاسی، مذہبی اور ذاتی اختلافات نے پاکستانیوں کو پارہ پارہ کر رکھا ہے اور ان تہہ در تہہ اختلافات کے خاتمے کا راستہ باہمی رابطے اور پھر آپس میں مذاکرات ہیں، مسئلوں کو حل کرنا ہے تو واحد راستہ یہی ہے دوسری طرف حکومت سے اختلاف کرنیوالوں کو بھی سیاست تک محدود رہنا چاہئے۔اپنی ہی دھرتی کیخلاف صف آرا ہو جانا ایک جذباتی رد عمل تو ہو سکتا ہے مگر اس حد تک جانے کا انہیں بھی اور ان کی سیاسی جماعت دونوں کو نقصان ہے جبکہ ملک کا نقصان اس سے بڑھ کر ہے ۔(بشکریہ جنگ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں