طیب بلوچ سپریم کورٹ کے بجائے اڈیالہ کے باہر کیا کررہا تھا، طارق متین ۔۔۔

طیب بلوچ اپنی بیٹ چھوڑ کر اڈیالہ جیل کیا کرنے گیا تھا۔ بول  کے بیوروآفس میں رات کو ہی ساری پلاننگ کرلی گئی تھی۔۔ سابق اینکر پرسن اور معروف یوٹیوبر طارق متین نے اپنے ویلاگ میں اڈیالہ جیل کے باہر طیب بلوچ پر تشددوالے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔ پی ٹی آئی کو کسی صورت کسی صحافی پر تشدد نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سات ستمبر کی رات بول کے اسلام آباد بیورو میں طیب بلوچ کی اڈیالہ جیل کی ڈیوٹی لگائی گئی جب کہ اڈیالہ جیل کی کوریج کرنا ایک اور رپورٹر محمد عالیجاہ ایک عرصے سے کرتا چلاآرہا ہے جسےجیل حکام اور سیکورٹی والے بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں۔۔ طارق متین نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس تھا جہاں نئے عدالتی سال کا آغاز ہورہا تھا ایسے موقع پر طیب بلوچ جو کہ پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کا صدر ہے وہ سپریم کورٹ جانےکے بجائے اڈیالہ جیل کا رخ کرتا ہے کیا یہ سب مشکوک نہیں؟َ طارق متین کا کہنا تھا کہ طیب بلوچ کو میڈیا ٹاک سے اٹھا دینا چاہیئے تھا، اسے مارنا نہیں چاہیئے تھا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں