ضیاخان کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل ، پھر  بنگلا دیش کیسے گیا؟؟

پاکستان میڈیا کلب کے سربراہ المعروف ضیاء اللہ المعروف ضیاء خان کے خلاف مبینہ فراڈ اور دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات درج ہیں، جن کی بنیاد پر ان کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر  اس کے باوجود جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعینات امیگریشن حکام کی غفلت یا کسی اور وجہ سے وہ حال ہی میں بنگلہ دیش روانہ ہونے میں کامیاب ہو گئے، جو خود ایک الگ اور تشویشناک معاملہ ہے۔سینئر صحافی نادر خان نےاپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ۔۔ پاکستان میڈیا کلب کے نام پر ہونے والے مبینہ فراڈ کے تناظر میں جماعتِ اسلامی کراچی کو فوری طور پر معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان میڈیا کلب کی رجسٹریشن سابقہ الخدمت کے دفتر، 80-B سندھی مسلم ہاؤسنگ سوسائٹی کے پتے پر کرائی گئی تھی۔ یہ دفتر اب جماعتِ اسلامی کراچی کے ضلع قائدین کی ملکیت بتایا جاتا ہے، جس کے باعث جماعتِ اسلامی کا نام بھی بلاوجہ اس تنازع میں زیرِ بحث آ رہا ہے۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میڈیا کلب کو ایک جانب کاروباری ادارے کے طور پر ظاہر کیا گیا جبکہ دوسری جانب اسے فلاحی تنظیم بھی بتایا گیا۔ حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے اداروں کے ذریعے ہونے والے مبینہ فراڈ کے واقعات زبان زدِ عام ہیں، جس نے شہریوں اور متعلقہ حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔دستاویزات کے مطابق پاکستان میڈیا کلب کے نام سے دی گئی درخواست 2014 میں جمع کرائی گئی، جبکہ اس کی رجسٹریشن 2015 میں عمل میں آئی۔ اس تناظر میں قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جماعتِ اسلامی کراچی یا ضلع قائدین اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور اگر ضرورت ہو تو متعلقہ اداروں سے رجوع کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا بدنامی سے بچا جا سکے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بروقت وضاحت اور کارروائی نہ صرف جماعتِ اسلامی کی ساکھ کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ میڈیا کے نام پر قائم متنازع اداروں کے حوالے سے بھی ایک واضح مثال قائم کر سکتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں