تحریر: طارق حبیب۔۔
یہ جو فراڈیا ہے ناں ۔۔ اس نے میرا روپیہ تک نہیں کھایا نہ اس کی سات نسلوں میں دم ہے۔۔۔ مگر جن لوگوں کے اس نے پیسے کھائے ان میں ۔۔ کئی ایسے بھی تھے جو ۔۔ اپنے باپ کی دکان بکوا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے تھے اور پھر ۔۔ اسے پیسے دیکر سب ڈبو دیا تھا۔۔ میں صرف ان جیسوں کو اس سے دور رکھنا چاہتا ہوں۔۔ جہاں تک صحافیوں کا تعلق ہے تو ۔۔ جو صحافی پارسائی کا دعویٰ نہیں کرتے ۔۔ وہ جو مرضی کرتے رہے ۔۔ مجھے ایشو نہیں ۔۔ مگر جو اس لوٹ کے پیسے پر عیاشی بھی کریں اور ۔۔ پھر تقویٰ اور پارسائی کے دعووں کے ساتھ نشستوں میں ذمہ دار بن کے بھی بیٹھیں۔۔ مجھے اعتراض ان پر ہے۔۔
۔اللہ نے جتنی توفیق دی تھی ۔۔ ماضی میں ریکیوری کروائی ۔۔ اور اس فراڈیے کو لگام بھی ڈالی۔۔ اب بھی کوشش جاری رہے گی۔۔ ان شاء اللہ۔۔
۔اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ پھر سرگرم ہے۔۔ نہ چہرے بدلے نہ طریقہ واردات ۔۔
۔اب دیکھیں زرا۔۔ الخدمت نے ایک پروگرام کرایا ۔۔ ان صاحب نے اپنی خدمات پیش کیں اور ۔۔پروگرام کے انتظامات ایک نجی ہوٹل میں کروانے کے نام پر ۔۔۔ الخدمت سے پیسے وصول کرلیے تھے ۔۔۔ مگر ہوٹل انتظامیہ کو ادا نہیں کیے گئے تھے ۔۔۔ اسی طرح جمعیت کے بچوں کو کاروبار کرانے ۔۔بیرون ملک کاروبار کرانے کے نام پر پیسا لوٹا گیا ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ ہی ۔۔۔ بڑی تعداد میں صحافیوں اور خواتین رکن پارلیمنٹ کو بھی چونا لگا گیا تھا ۔۔
۔اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ دوبارہ سرگرم ہوگیا ہے ۔۔۔
۔جو لوگ اس کےساتھ ہیں ۔۔۔ ان میں سے میرا اعتراض صرف ان پر ہے جو پارسائی کے دعویدار ہیں ۔۔ جماعت اسلامی ماضی میں اس کی گرفتاری کے بعد سے ۔۔۔ اس سے اعلان تعلقی کرچکی ۔۔ حالانکہ یہ ہر سو یہ کہتا پھرتا تھا کہ میرا تعلق جماعت سے ہے۔۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے جب معاملہ گرم ہوا تو ۔۔۔ اس وقت کے ترجمان قیصر شریف بھائی پر ۔۔ بہت پریشر تھا ۔۔ انھوں نے کمال مہارت سے اسے ہینڈل کیا تھا۔۔۔
۔آج یہ صورتحال ہے کہ ۔۔ لوگ انفرادی طور پر اس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔۔ اور یہ آج بھی اسی کو کیش کررہا ہے ۔۔۔ جیسے راولپنڈی کی رفاح یونیورسٹی کے کچھ ذمہ دار اس کے ساتھ ہیں جو ۔۔۔ بہرحال تحریک پس منظر رکھتے ہیں ۔۔۔ تحریکی صحافی چہرے اسی طرح گروپ میں شامل کچھ ایسے چہرے جو ماضی میں ۔۔ لوٹے گئے پیسے پر عیاشی کرتے رہے اور ۔۔ اب بھی کررہے ہیں ۔۔ تصاویر میں ڈھٹائٰ سے مسکراتے نظر آرہے ہیں ۔۔ شاید وہ اس موٹو پر ہیں کہ ۔۔بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے ۔۔۔ عزت آنی جانی چیز ہے۔۔۔۔
۔مگر یہ فراڈیہ اب ان چہروں کو کیش کررہا ہے ۔۔ یہ فراڈیہ جب سرگرم ہوگا اس کا تعاقب جاری رہے گا۔۔۔(طارق حبیب)۔۔
(مذکورہ تحریر سینئر صحافی طارق حبیب کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے مستعار لی گئی ہے، جس کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسیوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔
