تحریر: ادیب یوسفزئی۔۔
لاہور کے چند صحافی عجیب سی بے چینی کا شکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے گزشتہ کئی ماہ سے ان کا ذہنی توازن خراب ہوا پڑا ہے۔ ان کی کوشش اگر صرف منفرد دکھنے کی حد تک ہوتی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن یہ شاہ سے بھی زیادہ شاہ کے وفادار بن جاتے ہیں اور پھر اسی طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔
پنجاب میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے چند صحافیوں نے جس طرح کے سوال کیے وہ یقیناً افسوسناک ہیں۔ صحافتی تنظیموں کو اس حوالے سے صحافیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ایسے صحافیوں کو صحافتی تنظیموں سے بھی نکال دینا چاہیے۔
کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو صرف سوال نہیں رہتے۔ ایسے سوال پوچھنے والے کے اندر کی کیفیت، تربیت اور نیت کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔ ایسے سوالوں کے پیچھے ایک خاص ذہنی رویہ جھانک رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ صحافی ہیں جو سوال کو تماشا بنانے کا ہتھیار سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں اشتعال زیادہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اب سوال بھی ایسے کرتے ہیں جن میں تجسس کم اور بے بنیاد و بے سر و پا الزام زیادہ ہوتا ہے۔
صحافت میں سوال کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا یا توہین کرنا نہیں ہوتا۔ یہاں لیکن معاملہ کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے سوال پوچھتے وقت اخلاقیات کا تصور کہیں گم ہو جاتا ہے۔ وہ اخلاقیات جن کا چرچا نیوز رومز میں لیکچر کی حد تک تو بہت ہوتا ہوگا لیکن عملی میدان میں کہیں نظر نہیں آتے۔ کسی منتخب وزیرِاعلیٰ پر اس انداز میں بغیر کسی ٹھوس حوالہ یا سیاق و سباق کے منشیات کا الزام اچھال دینا صرف سامنے والے کی تضحیک ہی نہیں بلکہ پورے پیشے کے وقار پر سوال ہے۔ دوستو! صرف مائیک ہاتھ میں ہونا اور کیمرہ سامنے ہونا کسی کو بھی صحافی نہیں بنا دیتا۔ بس اتنا سمجھ لیجیے اور ایسے صحافیوں کا بائیکاٹ کیجیے۔ شکریہ۔۔(ادیب یوسفزئی)۔۔
