پاکستان میڈیا کونسل نے مقامی صحافی شعیب افتخار کی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) ملتان کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاری، شدید جسمانی تشدد اور جھوٹے مقدمے کے اندراج کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پی ایم سی ملتان ڈویژن کے صدر ملک محمد رضوان اعوان اور جنرل سیکرٹری سہیل چوہدری سمیت دیگر عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شعیب افتخار کو سی سی ڈی کی طرف سے پر اسرار طور پر گرفتار کر کے غائب کرنا، اس کے بعد ان سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنانا اور پھر ایک بے بنیاد مقدمے میں ان کی گرفتاری ظاہر کرنا نہ صرف آزادیٔ صحافت پر حملے کے مترادف ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرا کر ان کی زبان بند نہیں کی جا سکتی۔ شعیب افتخار کی رپورٹنگ پر اگر کوئی اعتراض تھا تو سی سی ڈی حکام کو اس پر اپنا موقف دینا چاہئیے تھا یا پھر قانونی راستہ اپنانا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس سی سی ڈی نے ایک ایسے شخص کی مدعیت میں اڑھائی ماہ پہلے کا واقعہ ظاہر کر کے مقدمہ درج کیا ہے جس کا اپنا پولیس ریکارڈ انتہائی مشکوک ہے ، پولیس ریکارڈ میں وہ خود کئی مقدمات میں ملزم ہے، اسی طرح شعیب افتخار کو حراست میں لیے جانے کے بعد جسمانی تشدد اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا جس کی قانون اور اخلاقیات کسی صورت اجازت نہیں دیتے، پاکستان میڈیا کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ شعیب افتخار کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے، اور اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔ پی ایم سی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر شعیب افتخار کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا، جھوٹا مقدمہ واپس نہ لیا گیا، اور تشدد و غیر قانونی مقدمہ کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی، تو صحافی برادری بھرپور احتجاج پر مجبور ہوگی۔ پی ایم سی نے اعلی عدلیہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکیں
