صحافی کالونی میں پلاٹ کیلئے 23 صحافیوں کی درخواست خارج۔۔

سندھ ہائی کورٹ کے سرکٹ بینچ، حیدرآباد نے صحافی کالونی میں پلاٹس کی الاٹمنٹ کے لیے دائر کی گئی آئینی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار صحافی کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے کے لیے کوئی قانونی یا آئینی حق ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق 23 درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ وہ صحافی ہیں اور صحافی کالونی میں پلاٹس کے حقدار ہیں، تاہم عدالت نے سماعت کے دوران قرار دیا کہ درخواست گزار نہ تو حیدرآباد پریس کلب کے ممبر ہیں اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی مستند ثبوت پیش کیا جس سے ان کا پلاٹ کے حصول کا حق ثابت ہو سکے۔عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت سندھ نے سال 2009 میں حیدرآباد پریس کلب کو 75 ایکڑ زمین 99 سالہ لیز پر اس غرض سے دی تھی کہ صحافیوں کے لیے رہائشی کالونی قائم کی جا سکے، جبکہ اس زمین پر پلاٹس کی الاٹمنٹ صرف پریس کلب کے اہل اور باقاعدہ ممبران کے لیے رکھی گئی تھی۔سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعض درخواست گزاروں نے متبادل پریس کلب بنانے کی کوشش کی، جسے ضلعی انتظامیہ نے قواعد و ضوابط پورے نہ ہونے پر رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت کے مطابق اس عمل سے بھی درخواست گزاروں کا دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے۔عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ صحافی کالونی کا مقصد حقیقی، باقاعدہ اور مستند صحافیوں کو رہائشی سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ ایسے افراد کو فائدہ پہنچانا جو قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے۔ عدالت نے مزید کہا کہ غیر مستحق افراد کو پلاٹس دینے سے اصل صحافیوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔عدالت نے سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت بھی کی کہ صحافیوں کے لیے اکرڈیٹیشن کے نظام کو شفاف بنایا جائے اور صرف کل وقتی اور مستند صحافیوں کو ہی اکرڈیٹیشن کارڈز جاری کیے جائیں۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار صحافی کالونی میں پلاٹس کے حصول کے لیے کوئی قانونی جواز ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں