صحافی نادربلوچ کی این سی سی آئی اے کے خلاف آئینی درخواست دائر۔۔۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ہم نیوز سے وابستہ صحافی نادر بلوچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے) کی جانب سے  بار بار جاری کیے گئے سمن کو معطل کرنے کی استدعا کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان نوٹسز میں الزامات کی وضاحت کیے بغیر انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔نادربلوچ  کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق اور بیرسٹر قادر جنجوعہ پیش ہوئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہیں کم از کم تین مرتبہ طلب کیا گیا، لیکن نہ تو کسی مخصوص الزام سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی شکایت کی کاپی فراہم کی گئی۔ اپنی درخواست سے متعلق ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ انہیں بغیر کسی وضاحت کے لاہور میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کی کارروائیاں قانونی شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار کے اصولوں کے منافی ہیں کیونکہ نہ تو الزامات کی تفصیل دی گئی اور نہ ہی مدعی کی درخواست کی نقل فراہم کی گئی۔ بلوچ نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ فوری طور پر جاری نوٹسز کو روکا جائے اور ادارے کو مزید اس مبینہ “غیر قانونی ہراسانی” سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے کو نہ صرف ذاتی مسئلہ بلکہ پاکستان میں صحافتی آزادی اور شہری حقوق سے جڑا ہوا قرار دیا۔صحافتی حقوق کی تنظیموں نے اس سے قبل بھی این سی سی آئی اے کی جانب سے صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) نے نادربلوچ کو جاری نوٹسز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ادارے کو صحافتی رپورٹنگ سے متعلق مبینہ دباؤ اور ہراسانی بند کرنی چاہیے اور صحافیوں کی سلامتی اور آزادیِ اظہار کا تحفظ کرنا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق یہ سمن اور آن لائن ہراسانی ان کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹنگ، بشمول توہینِ مذہب کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال پر تحقیقات، سے جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا ایکٹ) اور متعلقہ  سائبر کرائم قواعد کے تحت حکام آن لائن مواد کو قابلِ اعتراض قرار دے کر نوٹس جاری کر سکتے ہیں، تاہم قانونی ماہرین اور صحافتی آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مبہم اور غیر واضح سمن منصفانہ قانونی عمل (ڈیو پراسس) کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ دیگر نمایاں مقدمات میں بھی صحافیوں، جیسے سہرب برکت اور دیگر، کو اسی نوعیت کے قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سائبر کرائم قوانین کے دائرہ کار اور آزادیِ اظہار کے تحفظات پر بحث چھڑ گئی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں