تحریر: سید بدرسعید۔۔
سینئر صحافی شہاب انصاری پریس کلب کے لائف ممبر تھے۔ مجھے نہیں معلوم ان کا تعلق پریس کلب کے کس گروپ سے تھا کیونکہ میرے لیے ان کی شفقت گروپوں سے ماورا تھی ۔ ہمیشہ مسکراتا چہرہ اور بزرگانہ شان سے دی جانے والی تھپکی ان کی پہچان تھی ۔ پریس کلب میں ان سے ملاقات ہوتی تھی ۔ پھر کچھ عرصہ پریس کلب میں نظر نہ آئے تو میں نے ان کی کھوج لگانا شروع کی ۔ سچ کہوں تو مجھے نام بھی نہیں پتا تھا ۔ صرف ایک مسکراتا چہرہ ، تھپکی اور حوصلہ افزائی ۔ میرے لیے یہ کافی تھا ۔ نام کبھی اس ڈر سے پوچھا ہی نہیں کہ کسی سینئر کی اس سے بڑی توہین کیا ہو گی کہ ہم جیسا کوئی جونیئر جا کر کہے آپ کا نام کیا ہے ؟ کسی اور سے اس لیے نہیں پوچھا کہ وہ روز اول سے جتنی شفقت کا اظہار کرتے تھے مجھے شرم محسوس ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے اسے نام ہی معلوم نہیں ؟ دیکھنے والوں کو تو یہی لگتا تھا کوئی بہت گہرا تعلق ہے ۔ جب وہ پریس کلب سے “غائب ” ہوئے تو مجھے تشویش ہوئی ۔ پریس کلب کا اتنا سافٹ امیج اور ایسی بزرگانہ شان کہاں گئی ۔ پھر ان کا اتا پتا معلوم کیا تو ایک اور انکشاف ہوا ۔
ہمارا گھر زیادہ دور نہ تھا ۔ پیدل کا راستہ تھا ۔ وہی مسکراتا چہرہ گھر کے پاس مل گیا ۔ میں نے کہا پریس کلب اداس ہے کہنے لگے پریس کلب میں ہمارے واقف کم ہو گئے ہیں لیکن اب ہم پلان بنا رہے ہیں کہ سینئرز کا کوئی گیٹ ٹو گیدر شروع کریں ۔ اخبار کی ملازمت ختم ہو چکی تھی ۔ بےروزگاری میں سفید پوشی کا بھرم تھا ۔ وہ حفیظ سنٹر کے پاس ایک جگہ 50 ہزار کے لگ بھگ تنخواہ پر ملازمت کر رہے تھے اور پھر کینسر کا مرض ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ۔ نوائے وقت کے چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید سمیت یہ کینسر بےروزگاری میں کئی صحافیوں کی جان لے چکا ہے ۔ شہاب انصاری بھی اسی کا شکار ہوئے ۔
المیہ یہ نہیں کہ شہاب انصاری وفات پا گئے ۔ مرنا ہم سب نے ہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دیگر صحافیوں کی طرح ان کے جنازے میں بھی دس سے زیادہ صحافی نہیں تھے ۔ ان میں بھی لگ بھگ سبھی کا تعلق ان کے ادارے سے تھا ۔ المیہ یہ بھی ہے کہ آنے والے ان دس افراد میں سے بھی زیادہ تر بےروزگار صحافی تھے ۔
جنازے کے بعد جواد رضوی کے ساتھ نکلا تھا تو یہی سب سوچ سوچ کر اعصاب جواب دے چکے تھے۔ کیا شہاب انصاری کی ساری عمر کی صحافت کا پھل یہی چند بےروزگار صحافی تھے ؟ وہ تو شکر ہے ان کے اہل محلہ سے بھی اچھے تعلقات تھے جن کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ میں نے جواد رضوی سے کہا کچھ دیر بیٹھ جاتے ہیں ۔ قریب کوئٹہ ہوٹل تھا ہم وہاں بیٹھ گئے ۔ یہ بیٹھنا اس سے بھی بڑا دکھ بنا کیونکہ کچھ دیر بعد لالہ نیازی سمیت ان کے سابقہ ساتھی بھی وہیں آ گئے ۔ اس دوران انکشاف ہوا کہ یہ سینئرز بھی انتہائی مشکل حالات سے دو چار ہیں۔ چار چار سال سے ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں ۔ نئی ملازمتیں دستیاب نہیں ہیں ۔ ایک سینئر کہنے لگے میں نے سوچا اوبر چلا لوں لیکن اس عمر میں روزانہ دس بارہ گھنٹے گاڑی چلانا ممکن نہیں ہے ۔ پریس کلب میں صدارتی الیکشن لڑنے والے اپنے دور کے انتہائی بڑے استاد صحافی کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ بھی اپنی مہران کو بطور اوبر چلاتے رہے ہیں ۔
میں گھر پہنچا تو سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔ یہ معلوم تھا کہ میڈیا کے حالات بہت برے ہیں اور ہم سب کے روزگار کا سنگین ایشو ہے ۔ اسی لیے میں گزشتہ کچھ برس سے صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل روزگار کے حوالے سے کام بھی کر رہا ہوں ۔ پچھلے سال پریس کلب میں “آرٹیفیشل انٹیلیجنس فار میڈیا” کی ٹریننگ بھی دی ۔ اس سال بھی کچھ کورسز کروانے ہیں تاکہ معاشی خودمختاری کی جانب سفر کریں لیکن ہمارے سینئرز کس حال کو پہنچ چکے ہیں یہ المیہ ہے ۔ اپنی ساری عمر صحافت کو دینے کے بعد کوئی اوبر چلا رہا ہے ، کوئی موبائل شاپ پر کام کر رہا ہے ، کسی کو تیس چالیس ہزار کی ملازمت کی تلاش ہے اور ایک کے بعد ایک اسی ڈپریشن میں کینسر ، بلڈ پریشر ، برین ہیمرج ، گردے فیل اور ہارٹ اٹیک سے مر رہا ہے۔ مسلسل بےروزگاری اور اس دوران روسی روٹی کے لیے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے کی وجہ سے پریس کلب کی ممبر شپ ختم ہونے کا خوف اس کے علاؤہ ہے ۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ عمر بھر صحافت کے دشت میں آبلہ پا پھرنے والوں کے جنازے پر درجن بھر صحافی بھی نہیں ہوتے ۔ ہم اپنوں کو بےروزگاری اور کسمپرسی میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر مرنے پر منہ دیکھنے کے قابل تو رہے نہیں ہوتے لیکن منہ دکھانے بھی نہیں پہنچ پاتے ۔ شہاب انصاری کی عمر بھر کی صحافت کا نچوڑ کل دس صحافی تھے ۔
یہ سب ہے کہ اداروں کی بندش ، ملازمتوں کا خاتمہ ، بےروزگاری اور میڈیا کے موجودہ حالات بہت سنگین ہو چکے ہیں ۔ میری تجویز ہے کہ اس حوالے سے سینئرز کا ہنگامی اجلاس بہت ضروری ہے ۔ چاہے ایک مہینہ یہ اجلاس چلتے رہیں ۔ اسٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے لیکن اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کیا جائے ۔یہ کام ہمارے سینئرز مل کر ہی کر سکتے ہیں ۔ اگر اب بھی اختلافی لڑائیوں ، گروہ بندیوں اور اپنی اناؤں کے اسیر رہیں گے تو یہ وقت بھی ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر شاید ہم سب ایک ایک کر کے کسمپرسی سے مرتے جائیں گے اور ہمارے دوستوں کے پاس جنازے میں پہنچنے کے لیے کرایہ کے پیسے بھی نہیں ہوں گے ۔(سید بدرسعید، ممبرگورننگ باڈی لاہور پریس کلب)ٰ۔۔۔
