شوبزانڈسٹری میں گروپنگ بہت ہے، ایاز خان۔۔

سینئر اداکارہ عائشہ خان کے انتقال کے حوالے سے سینئر اداکار و کامیڈین ایاز خان کا کہنا ہے کہ عائشہ خان جب تک زندہ تھیں انہیں کسی نہیں پوچھا تو اب لوگوں کو کیا مسئلہ ہے، اب افسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ کیسے ہوا اور کیا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی آرٹسٹ کو ڈراموں میں نہیں لے رہے ہوتے اور مسلسل نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس پر کیا گزرتی ہوگی۔ایاز خان کا کہنا تھا کہ عائشہ خان ایک پڑھی لکھی، باوقار، سلجھی ہوئی اور با اخلاق خاتون تھیں۔سینیئر اداکار ایاز خان خان نے وی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے نزدیک ہی رہتی تھیں اور جب جب ان سے ملاقات ہوتی تو کہتی تھیں ’ایاز کیسے ہو بیٹا‘ جبکہ میرے اپنے بال اب سفید ہو چکے لیکن ان کا وہی پیار بھرا انداز ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہنس مکھ خاتون تھیں اور پان بھی باقائدگی سے کھایا کرتی تھیں۔ایاز خان نے کہا کہ جب کوئی چلا جاتا ہے تو سب افسردہ ہوجاتے ہیں لیکن اولاد سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا ان کی اولاد کے حوالے سے کوئی کہہ رہا ہے کہ اسلام آباد میں ہے اور کوئی بتا رہا ہے کہ ملک سے باہر ہے، بہرحال اگر میں کسی کو اپنی نجی زندگی کے بارے میں نہ بتاؤں تو کسی کو پتا نہیں چلتا۔انہوں نے کہا کہ عائشہ خان نے بھی اپنی اولاد کو شوبز سے دور رکھا اس لیےان تک لوگوں کی رسائی نہیں ہو سکی لیکن افسوسناک اور تکلیف دہ بات یہ تھی کہ محلوں والوں تک کو پتا نہیں چلا۔ایاز خان نے کہا کہ آج کے زمانے کے بہت سے لوگ عائشہ خان کو نہیں جانتے ہوں گے اور بالکل اسی طرح کچھ عرصے بعد ہمیں بھی لوگ نہیں جانیں گے، یہ تو سوشل میڈیا نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں سے متعلق ایاز خان کا کہنا تھا کہ کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ لیکن اب وہ دنیا سے جا چکی ہیں اور جہاں تک ان کی اولاد کی بات ہے تو ان کی بھی تو اولاد ہوگی، ان  کے ساتھ بھی آگے جا کر ایسا ہو تو پھر کیسا ہوگا؟ایاز خان کے مطابق مریم اورنگزیب کی جانب سے پرانے پی ٹی وی اداکاروں کے لیے ایک کارڈ بنایا گیا تھا جس میں 15 لاکھ روپے تک کی سہولیات دی گئی تھیں جو کہ ایک احسن اقدام تھا ایسا ہونا چاہیے کیوں کہ آرٹسٹ عوام کے لیے اپنی زندگی دے دیتا ہے لیکن اپنی عمر کے آخری حصے میں وہ بے بس نظر آتا ہے۔ایاز خان کا کہنا تھا کہ گروپنگ ہے شوبز انڈسٹری میں جو باپ کا کردار کر رہا ہے وہ مسلسل باپ بن رہا ہے جبکہ وہ باپ بننے کے قابل بھی نہیں رہا ہے، جو باس بن رہا ہے اس کے ابا نے بھی کبھی دفتر نہیں دیکھا ہوگا لیکن وہ باس بن رہا ہے تو یہ صورت حال کہیں اس کی وجہ بجٹ کی کمی ہے تو کہیں فیوریٹ ازم ہے تاہم بہت سی باتیں ایسی ہیں جو میں کہنا نہیں چاہتا۔ایاز خان کا کہنا ہے کہ ہم تو مینیول ایکٹر ہیں ہم نے کام کرتے کرتے کام سیکھا ہے کام کرتے کرتے سیکھنے اور اچانک چھلانگ لگا کر ایکٹر بن جانے میں فرق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے صرف 3 کیمرے ہوا کرتے تھے سار اسکرپٹ یاد کرنا پڑتا تھا، اب تو 2،2 جملے یاد کرنے پڑتے ہیں۔آخر میں ایاز خان نے بتایا کہ ایک بارعائشہ خان نے مجھے کسی کی آنکھ کا آپریشن کروانے کا کہا تھا جو انہوں نے کروادیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ذریعے ہم تک کوئی نیکی پہنچ رہی ہو تو ہمیں وہ موقع گنوانا نہیں چاہیے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں