ڈراما ’کیس نمبر 9‘ کی حالیہ قسط کے یوٹیوب ورژن سے ایک اہم سین حذف کر دیا گیا ہے، جس میں 26ویں آئینی ترمیم اور جسٹس منصور علی شاہ کا حوالہ شامل تھا۔جیو انٹرٹینمنٹ کا حساس موضوع پر بنایا گیا ڈراما ’کیس نمبر 9‘ اپنی منفرد کہانی اور عمدہ اداکاری کی وجہ سے ناظرین میں کافی مقبول ہے۔یہ ڈراما ایک عورت کی انصاف کے لیے جدوجہد کی مؤثر عکاسی کرتا ہے اور اس کی قسط نمبر 17 کے یوٹیوب ورژن سے ایک اہم سین حذف ہونے کے بعد مزید موضوعِ بحث بن گیا ہے، جس میں 26ویں آئینی ترمیم اور جسٹس منصور علی شاہ کا حوالہ شامل تھا۔حذف کی گئی لائن آمنہ شیخ کے کردار بینش نے کہی تھی، جو صبا قمر کے کردار سحر کی وکیل ہے۔عدالت میں جب فیصل قریشی کا کردار گواہی دے رہا ہوتا ہے تو وہ سحر کے مطلقہ ہونے اور کنواری نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے کردار پر سوال اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے جواب میں بینش ایک مضبوط دلائل پر مبنی مؤثر گفتگو کرتی ہے اور جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں سے حوالہ دیتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ اور ان کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ اگر 26ویں آئینی ترمیم پاس نہ ہوتی اور ان کے راستے میں رکاوٹ نہ بنتی، تو وہ آج اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے۔جواب میں مخالف وکیل مرزا غالب کا ایک شعر پڑھ کر کہتا ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اور اسی نے 26ویں ترمیم منظور کی ہے۔وہ ناظرین جنہوں نے بدھ کی شب یہ قسط دیکھی، لیکن جمعرات کی صبح تک چینل کے آفیشل یوٹیوب اپ لوڈ سے یہ حصہ ہٹا دیا گیا تھا۔تاہم، ڈرامے کے رائٹر اور صحافی شاہ زیب خانزادہ نے اس سین کے غیر حذف شدہ حصے کا کلپ ایکس پوسٹ میں شیئر کیا۔ نشر کی گئی قسط میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے فیصلوں کا حوالہ شامل کیے جانے کو خاص طور پر تعریف ملی، خاص طور پر جسٹس عائشہ ملک کی رائے کہ کسی خاتون کے سابقہ تعلقات کا اس کے کردار یا ریپ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
