تحریر:شکیل یامین کانگا
رواں برس پیر13 اکتوبر 2025ء کو عملدرآمد ٹریبونل فار نیوز پیپر ایمپلائز( آئی ٹی این ای) کے چیئرمین شاہد محمود کھوکھرجب اپنی تین سالہ مدت ملازمت مکمل کرکے رخصت ہورہے تھے تو میری طرح وہ میڈیا ورکر اور رہنما جن کا آئی ٹی این ای کے حوالے سے تھوڑا بھی تجربہ ہے ۔جناب شاہد محمود کھوکھر کی کارکردگی دیکھنے کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہوگیاکہ “وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا” شاہد محمود کھوکھر صاحب کی مدت ملازمت کو کمزور پریشان حال میڈیا ورکرز کا سنہرا دورکہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔گزشتہ تین سالہ میں آئی ٹی این ای میں پرنٹ میڈیا ورکرز کے زیرالتوا مقدمات پرجس طرح نتیجہ خیز کارروائی ہوئی اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔چیئرمین آئی ٹی این ای کے فیصلوں سے ورکرز کو ہر ممکن ریلیف ملا ہے ان کے حق کےکروڑوں روپے انہیں ملے ، میڈیا ورکرز کو نظام انصاف کے ذریعے مالی فوائد ملنےکی اس طرح کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ شاہد محمود کھوکھرچیئرمین آئی ٹی این ای بننے سے پہلے وکالت کا 24 سالہ تجربہ رکھتے تھے۔ وہ گزشتہ دس سال سے سپریم کورٹ میں پریکٹس کر رہے تھے ۔ان کے پاس سول سروس، مزدوروں اور میڈیا کارکنان کے متعلق معاملات کا وسیع تجربہ تھا ۔انگریزی اور اردو سمیت متعدد زبانوں میں مہارت رکھنے والے مارکیٹنگ کی حکمت عملی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، تحقیق، پروجیکٹ مینجمنٹ، اور تعلقات عامہ کے فن میں ماہرتھے،اپنی قابلیت سے انہوں نے پرنٹ میڈیا ریگولیشن میں اہم کردار ادا کیا۔وفاقی حکومت نےاکتوبر2022 ء میں جب انہیں چیئرمین آئی ٹی این ای مقرر کیا تھاتوگزشتہ 18 ماہ سے چیئرمین شپ کا عہدہ خالی ہونے کی وجہ سے ٹریبونل میں سینکڑوں پریشان حال پرنٹ میڈیا ملازمین کے اخبارات اور نیوز ایجنسیز کے مالکان کے خلاف ہزاروں مقدمات زیرالتواءتھے اور وہ انصاف کے منتظر تھے ۔پاکستان میں نظام انصاف کی سست روی ایک تلخ حقیقت ہے اور اگر بات کمزور طبقے ملازم یا مزدورکی ہوتوانصاف کی بے بسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ایسے دور ابتلا میں چیئرمین آئی ٹی این ای شاہد محمود کھوکھر پاکستان بھر کے پرنٹ میڈیا ملازمین کے لیے امید بن کر ابھرے ۔ان کے دور میں میڈیا ورکرز کو طویل عرصے سے جاری مالی بحران سے کافی حد تک چھٹکارا ملا ،انہوں نے کامیابی سے میڈیا مالکان کی جانب سے زیر التواء تنخواہوں، الاؤنسز، ویج ایوارڈ کی مد میں غیرقانونی کٹوتی ،گریجویٹی، ملازمین کو ساتویں اور آٹھویں ویج ایوارڈکی رقم کی ادائیگی اورمالکان اخبارات کی جانب سے روکی گئی دیگر مراعات کے اجراء کو یقینی بنایا ۔بحثیت چیئرمین ان کا انصاف کے لیے غیرمتزلزل عزم جدوجہد کرنے والے میڈیا ورکرز کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ ان کے فیصلہ کن اقدامات سے اخبارات کے ہزاروں ملازمین کو ان کے جائز واجبات حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔میڈیا ہاؤس مالکان کی جانب سے تنخواہوں اور مراعات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کے کارکنوں کو برسوں سے شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا ۔انتھک کوششوں اورقانونی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے جناب شاہد کھوکھر نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ، طاقتور میڈیا مالکان کے خلاف ان کا مضبوط عزم اور صحافیوں اور اخباری عملے کے حقوق کے لیے ان کی لگن نے انڈسٹری میں ایک مثال قائم کی ہے۔ شاہد محمود کھوکھر کو کام کرنے کا منفرد انداز ان کا آرڈرز پاس کرنے کی صلاحیت اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کا عزم تھا۔ اپنے پیشرو کے برعکس انہوں نے طویل عرصے سے زیر التواء فیصلوں کو نافذ کرنے کی جرات کا مظاہرہ کیا ہے ،ماضی میںکسی بھی سابق چیئرمین نے میڈیا مالکان کے خلاف ان فیصلوں پرعمل درآمد کرنے کی جرات نہیں کی تھی،لیکن شاہد کھوکھر نے قانون کی رو سےاس بات کو یقینی بنایا انصاف کی فراہمی یقینی ہو۔ بقایا ادائیگی کی وصولی کے علاوہ مستقبل میں اسی طرح کی مالی ناانصافیوں کو روکنے کے لیے نظام اصلاحات کی وکالت بھی کرتے رہے ۔ان کی فیصلوں نے صحافیوں میں اعتماد بحال کیا اور یہ ثابت کیا ہے کہ میڈیا کے شعبے میں احتساب اور انصاف پسندی غالب آ سکتی ہے۔شاہد محمود کھوکھر نے اپنے تین سالہ دور میں جہاں تک ممکن ہو سکا ورکرز کو ہر ممکن ریلیف دیا انہیں کروڑوں روپے دلائے ۔ بیواؤں، معذوروں کے کیسزکو ترجیحی بنیادوں پرحل کیا گیا اپنی ذمہ داری کے آخری روز بھی وہ پہلے روز کی طرح پر خلوص انداز میں انصاف کا ترازو پکڑے کھڑے نظر آئے۔ پاکستان بھر کے ورکرز چیئرمین آئی ٹی این ای کی خدمات کو کبھی بھی بلا نہیں پائیں گےجو ورکرز اپنے حق کے لیے مایوس ہو چکے تھے وہ ان ورکرز کے لیے امید کی کرن بنے اور ان کے حقوق ان کو دلوائے ان کے اسی جذبے کو پاکستان بھر کے صحافی سراہتے نظر آتے ہیں۔شاہد محمود کھوکھر کے دور میںکئی اہم مقدمات نمٹائے گئے جنہوں نے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کیے بلکہ صحافتی برادری کو اعتماد بھی دیا۔ اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں انصاف، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ وقار کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ وہ ایک ایسے وقت میں آئی ٹی این ای کے چیئرمین بنے جب صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اپنے حقوق کے لیے قانونی محاذ پر بے شمار مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن ان کی بصیرت، خلوص اور قانون کی گہری سمجھ نے نہ صرف ادارے کو فعال بنایا بلکہ اس کے وقار کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ان کی قیادت میں آئی ٹی این ای نے وہ کام کیے جو پہلے محض فائلوں میں دبے رہتے تھے۔ میڈیا مالکان اور کارکنوں کے درمیان تنازعات ہوں یا تنخواہوں اور مراعات کے مسائل — شاہد محمود کھوکھر نے ہر کیس کو انسانیت اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ نمٹایا۔ ان کا یقین تھا کہ میڈیا ورکرز ریاست کے ترجمان ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ دراصل جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے۔ اسی لیے انہوں نے ادارے کے ہر فیصلے میں شفافیت اور غیر جانب داری کو مرکزی اصول بنایا۔صحافی اور میڈیا کارکنان شاہد محمود کھوکھر کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے(شکیل یامین کانگا)۔۔
