سینئر صحافی کو نوسربازوں نے لوٹ لیا۔۔

کراچی شہر کا وسطی کاروباری علاقے صدر میں نوسربازوں ، چوروں اور جیب کتروں کا راج۔جرائم پیشہ عناصر شہریوں کو موبائل ، لیپ ٹاپ ، نقدی اور زیورات سمیت قیمتی اشیار سے محروم کرنے لگے۔ شہر کا مرکز صدر عام شہری کے لیے غیر محفوظ ہو کر رہ گیا۔ جبکہ پولیس خاموش تماشہ دیکھ رہی ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی ملی بھگت کے بغیر سرِعام لوٹا ماری ممکن نہیں ۔ گزشتہ روز معروف صحافی نیاز کھوکھر کو دو نوسربازوں  نے منصوبہ بندی کے تحت دھوکہ دے کر ان کی گاڑی کے شیشے کھلوائے اور ان میں سے ایک نے تکرار شروع کردی جبکہ دوسرے وارداتیے نے گاڑی سے موبائل چوری کرلیا۔ اور دونوں بھاگ کر غائب ہوگئے۔ شہریوں کا کہنا ہے جس شہر میں صحافی تک محفوظ نہ ہوں وہاں عام شہری کا کیا حال ہوگا۔ صدر کے علاقے میں جیت کترے ایسے پھر رہے ہیں جیسے کہ انھیں کسی کی سرپرستی حاصل ہے۔۔ صدر کے مقامات ایمپریس مارکیٹ ، بوہری بازار ، مرشد گارمنٹس، صدر دواخانہ اور ملحقہ شاپنگ ایریاز میں ہر روز جیب کترے لوگوں کی جیبوں کا صفایا کر رہے ہوتے ہیں۔ صدر میں نوسربازی کا یہ عالم ہے کہ کھلے عام شہریوں کو لوٹا جاتا ہے۔ بال مستقل کالے کرنے کے نام پر شہریوں کو جھانسہ دیا جاتا ہے انھیں مہنگی سے مہنگی ادویات فروخت کی جاتی ہیں جن کا زرلٹ صفر ہوتا ہے۔۔ بعض نو سرباز شہریوں کے چہروں پر داغ دیکھ کر انھیں اپنے جھانسے میں لے لیتے ہیں اور جعلی ادویات تھما کر بھاری رقوم لے لی جاتی ہیں جن کے نتائج نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔۔ شہریوں کا اندیشہ ہے کہ یہ سب جرائم پولیس کے علم میں ہوتے ہیں لیکن یا تو ان سے بھتہ لے کر انھیں ایسا کرنے دیا جاتا ہے یا پھر کچھ کالی بھیڑوں کے براہ راست رابطہ کار ففٹی ففٹی پر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات کا پولیس کے اعلٰی افسران کو نوٹس لینا چاہیے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں