سینئر صحافی کوکئی گھنٹے پولیس نے حبس بیجا میں رکھا، پی یوجے۔۔

 پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی حسنین اخلاق کو تھانہ شاد باغ میں دو سے تین گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سے اس واقعہ کا سخت نوٹس لینے اور تھانہ شاد باغ کے ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ، سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی ، نائب صدر ندیم زعیم ، جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین تتلہ ، شیر علی خالطی ، خزانچی نسیم قریشی اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور جھوٹ کا کاروبار ختم کرنے کے نام پر حکومت نے پیکا کا جو قانون بنایا وہ اب صرف صحافیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا  رہا ہے ۔ جہاں  بھی کوئی غیر قانونی کارروائی ہو رہی ہو اور میڈیا پرسن ، صحافی اور فوٹو جرنلسٹس یا کیمرہ مین اسے کور کرنے لگے تو فوری طور پر اس غیر قانونی کارروائی کو  سب سے پہلے جو سرکاری ادارہ تحفظ دیتا ہے وہ پولیس کا ڈیپارٹمینٹ ہے ۔ حسنین اخلاق جو کہ سینئر صحافی ہیں اور سیون نیوز میں سپیشل کارسپینڈنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے اپنے ساتھ شاد باغ پولیس کے جس ظلم کی نشاندہی کی پی یوجے قیادت کے روبرو بیان کی وہ پولیس کے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائی کی واضح مثال ہے ۔ حسنین اخلاق نے شاد باغ کے علاقے میں ایک پلازے کی غیر قانونی تعمیر کی جو نشاندہی اپنی خبر میں کچھ روز قبل کی تھی اور اس میں ایل ڈی اے کے بعض افسران کا تذکرہ کیا تھا مگر جب پھر بھی پلازے کی تعمیر جاری رہی اور حسنین اخلاق نے اس تعمیراتی کام کی فوٹیج بنائی تو اس پر گنیں تان لی گئیں ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے کہا اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حسنین اخلاق جس نے اس سارے واقعہ کے خلاف ون فائیو پر کال کی تھی ۔موقع پر جانے والی پولیس انہیں تحفظ دیتی مگر الٹا شاد باغ پولیس حکام  حسنین اخلاق کو پیکا کے تحت مقدمہ درج کرنے کہ دھمکی دیتے رہے ۔ نعیم حنیف نے اس سارے واقعہ کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی کا کہنا تھا کہ اب اصولی طور پر پولیس حکام پیکا کے تحت کوئی مقدمہ دراج نہیں کر سکتے اس کے لئے ایف آئی اے ہے اس لئے پنجاب حکومت اس بنا پر بھی ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرئے۔ ایگزیکٹو کونسل نے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کیمانہ کو یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی لاہور پولیس نے تھانہ شالیمار کے علاقے میں کسی الزام کے بغیر ایک سینئر صحافی سدھیر چودھری اور صغیر چودھری کے گھر پر رات گئے چھاپہ مارا تھا جس کی درخواست بھی صغیر چودھری نے سی سی پی او لاہور کے آفس میں دی تھی مگر بعد میں اس کیس پر مٹی ڈال دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کا سی سی پی او لاہور  سخت نوٹس لیں ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں