سینئر صحافی کانوجوان بیٹے کا مبینہ اغوا۔۔

تحریر: چودھری مجاہدحسین۔۔

لاہور کے تھانہ ہربنس پورہ کی حدود سے صحافی منیر بھٹی کا 14 سالہ بیٹا حسنین علی مبینہ طور پر اغواء  ہوگیا۔سینئر صحافی منیر بھٹی کا 14 سالہ بیٹا حسنین علی یکم جنوری 2026 کو شام کے وقت اکیڈمی گیا، مگر آج  تک  واپس گھر نہ لوٹا۔ہر گلی، ہر محلہ، ہر رشتہ دار، ہر ممکن جگہ چھان ماری گئی، مگر ایک باپ کو اپنے جگر کے ٹکڑے کی کوئی خبر نہ مل سکی۔والد کا کہنا ہے کہ اب یہ محض گمشدگی نہیں رہی، بلکہ اغواء کا سنگین خدشہ ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک سینئر صحافی، ایک ذمہ دار شہری اور  ایک ٹوٹے ہوئے باپ نے تھانہ ہربنس پورہ میں ایف آئی آر درج کروائی،مگر پنجاب پولیس کے تمام تر بلند و بانگ دعووں کے باوجود سات دن گزر جانے کے بعد بھی بچہ بازیاب نہ ہو سکا۔یہ وہی پنجاب ہے جہاں وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کرتی ہیں کہ پنجاب میں کرائم زیرو ہے۔یہ وہی صوبہ ہے جہاں سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ پنجاب اتنا محفوظ ہوگا کہ عورت سونا پہن کر رات کو باہر نکلے گی۔یہ وہی پنجاب ہے جہاں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، ڈی آئی جی آپریشنز محمد  فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور دن رات میڈیا اور سوشل میڈیا پر کامیابیوں کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔مگر آج سوال یہ ہے:

کیا یہ تمام ادارے، یہ تمام دعوے، یہ تمام تقریریں ایک 14 سالہ بچے کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو چکی ہیں؟کیا ایک باپ کے لیے اس کا بیٹا ان دعوؤں سے کم قیمتی ہے؟کیا سات دن تک ایک معصوم بچے کا لاپتہ رہنا بھی ہمارے نظام کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟آج یہ صرف منیر بھٹی کا المیہ نہیں،یہ ہر اس باپ کا خوف ہے جس کا بچہ گھر سے باہر قدم رکھتا ہے۔۔یہ پنجاب پولیس کے دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حسنین علی کو فوری اور بحفاظت بازیاب کروایا جائے۔۔اور اگر ادارے واقعی اتنے ہی بااختیار ہیں جتنا بتایا جاتا ہے، تو یہ ثابت کرنے کا وقت آج ہے — تقریروں سے نہیں، عمل سے۔ایک باپ کی چیخ، ایک صحافی کی للکار، اور ایک معاشرے کا سوال۔(چوہدری مجاہد حسین،سینئر کرائم رپورٹر، پنجاب)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں