سینئر صحافی پر خبر لگانے کے آدھے گھنٹے بعد ہی مقدمہ درج۔۔۔

سینئر صحافی نادر خان کے خلاف کراچی میں ایف آئی اے  کی ایک کارروائی کی خبر ویب سائٹ پر لگانے کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ یہ ایک ایسی خبر تھی جس کی انکوائری خود ایف آئی اے کررہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ویب سائٹ پر خبر شام ساڑھے پانچ بجے اپ لوڈ ہوئی اور ایف آئی اے نے مقدمہ شام چھ بجے(آدھے گھنٹے بعد ہی ) درج کرلیا۔۔خبر ایل پی جی کی اسمگلنگ سے متعلق تھی جو اپنے طور پر مکمل خبر تھی جس میں ایف آئی اے کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعلق بھی بتایا گیا کہ ان کا موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔ کراچی کی تمام صحافتی تنظیمیں اور کراچی پریس کلب اس حوالے سے نادرخان کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس کے افسران کو مقدمہ درج کرنے سے پہلے مروجہ طریقہ کار کو فالو کرنا چاہیئے۔ اگر کسی اہم شخصیت کا دباؤ تھا تو وضاحت شائع کرواکر جان چھڑالیتے۔۔دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے سیکرٹری ریحان خان  چشتی اور پریس کلب کی لائژن کمیٹی کے سیکرٹری عارف محمودکی سربراہی میں کے یو جے دستور کے وفد نے  این سی سی آئی اے کی جانب سے سینئر صحافی نادر خان کے خلاف درج مقدمے کے معاملے پر  ایف آئی اے حکام سے انکے دفتر میں ملاقات کی اور نادر خان کے خلاف درج مقدمے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا، ایف آئی اے حکام نے ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ ایف آئی اے کی جانب سے نادر خان کے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی نہیں کی جائیگی، کے یو جے کے وفد نےایف آئی اے حکام سے صحافیوں کو پیکا ایکٹ کی آڑ میں نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ،  ملاقات میں اس معاملے کے تدارک کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچاجاسکے، ۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں