کراچی میں ڈسٹرکٹ ایسٹ کی عدالت نے سینئر صحافی شہاب سلمان کی دونوں مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (اے ڈی جے) تھری ایسٹ نے 50 ہزار اور 30 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔عدالت میں سماعت کے دوران مدعی کی جانب سے تھانہ ماڈل کالونی میں درج ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات ثابت نہ کیے جا سکے۔ مدعی زاہد ظفر نے ایف آئی آر نمبر 48 میں شہاب سلمان اور امیرالدین پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 324، 337 اور 34 کے تحت حملے کا الزام عائد کیا تھا۔سماعت کے دوران مدعا علیہ کے وکیل لیاقت علی گبول ایڈووکیٹ اور امجد علی ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مدعی کی ایف آئی آر اور میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) رپورٹ میں واضح تضاد موجود ہے۔ وکلا کے مطابق ایف آئی آر میں گولی لگنے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ایم ایل او رپورٹ میں گولی کے کسی زخم یا نشان کا سرے سے کوئی ثبوت موجود نہیں۔دلائل سننے کے بعد اے ڈی جے تھری ڈسٹرکٹ ایسٹ کے فاضل جج نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض شہاب سلمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ایف آئی آر میں نامزد شریک ملزم امیرالدین کی عبوری ضمانت بھی کنفرم کر دی۔واضح رہے کہ مقدمے کے پس منظر میں یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ مدعی اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر شہاب سلمان کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور فائرنگ کی، جس کے جواب میں شہاب سلمان نے اپنی جان کے دفاع میں فائرنگ کی اور بعد ازاں خود تھانے میں پیش ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود بااثر افراد کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا اور امیرالدین کو بھی نامزد کیا گیا۔جمعہ کے روز ضمانت کی سماعت کے موقع پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری لیاقت کشمیری، آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ عظمت خان اور دیگر صحافی بھی عدالت میں موجود تھے۔
