senior sahafi shaheen sohbai ko dawa mehenga pargya

سینئر صحافی شاہین سہبائی کی اے آئی ٹویٹ پر معذرت

سینئر پاکستانی صحافی شاہین سہبائی نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف سے متعلق ایک متنازع مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصویر پوسٹ کرنے اور بعد میں حذف کرنے پر سوشل میڈیا پر عوامی معذرت کی ہے۔ یہ معذرت ان کے تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ پر  شیئر کی گئی، جو اس تصویر پر آن لائن تنقید کے بعد سامنے آئی۔ مذکورہ تصویر میں نواز شریف اور ایک خاتون کے درمیان ایک من گھڑت منظر دکھایا گیا تھا۔شاہین سہبائی نے ایکس پر لکھا کہ وہ معذرت خواہ اور نادم ہیں اور نواز شریف کی اے آئی تصویر والی اپنی ٹویٹ پر دل سے معافی مانگتے ہیں، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ جن لوگوں نے اس پر اعتراض کیا وہ درست تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی اصل ٹویٹ میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ مواد ان کے پیشہ ورانہ معیار سے کم تر ہے، تاہم ان کے مطابق اردگرد موجود چند افراد نے انہیں یہ پوسٹ کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹویٹ تین سے چار گھنٹوں میں وائرل ہو گئی، جس کے بعد انہوں نے صبح سویرے بیدار ہو کر اسے نامناسب سمجھتے ہوئے حذف کر دیا۔یہ واقعہ ڈیجیٹل میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور صحافیوں کی اخلاقی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی تصویر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور اس کے ممکنہ اثرات پر غور کریں۔ اے آئی سے بنائی گئی تصاویر کو باآسانی حقیقی سمجھا جا سکتا ہے، جو غلط معلومات پھیلانے اور عوامی شخصیات کے ساتھ ساتھ میڈیا پیشہ ور افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ صحافتی اخلاقیات کے ضابطے عموماً تصدیق اور افراد کی حساس انداز میں عکاسی پر زور دیتے ہیں، خصوصاً سیاسی طور پر حساس ماحول میں۔شاہین سہبائی کا صحافت اور تجزیے میں طویل کیریئر ہے، اور ان کا کام ماضی میں بھی پاکستانی میڈیا حلقوں میں بحث و مباحثے کا سبب بنتا رہا ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے واضح طور پر ندامت کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا یہ عمل ان کے اپنے معیار سے بھی کم تھا۔ سوشل میڈیا مواد کے تیزی سے پھیلاؤ اور اے آئی سے تیار یا ترمیم شدہ مواد شیئر کرنے کے خطرات پر دنیا بھر کے نیوز اداروں میں بحث جاری ہے، اور کئی ادارے سخت ادارتی کنٹرولز اور بہتر فیکٹ چیکنگ کے طریقۂ کار پر زور دے رہے ہیں۔یہ معذرت صحافیوں اور مبصرین کے سوشل میڈیا استعمال اور گمراہ کن یا من گھڑت مواد کے ساتھ وابستگی کے غیر متوقع نتائج سے متعلق وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ میڈیا ادارے اور پیشہ ور تنظیمیں ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی اور صارفین کے تیار کردہ مواد کی تصدیق پر تربیت کی اہمیت پر زور دے رہی ہیں۔یہ واقعہ پاکستانی صحافیوں اور میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہ نیوز رپورٹنگ اور تبصرے میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کے اخلاقی اور ساکھ سے متعلق خطرات کو واضح کرتا ہے۔ یہ مضبوط ادارتی معیارات، تصدیقی طریقۂ کار، اور اس بات کی آگاہی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ بااثر میڈیا شخصیات کی سوشل میڈیا پوسٹس عوامی رائے کو کس طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ صحافت میں اعتماد اور ساکھ برقرار رکھنے کے لیے اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال نہایت ضروری ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں