لاہور پریس کلب کی آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے زیر اہتمام پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر اور لائف ممبر لاہور پریس کلب بخت گیر چودھری کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔تقریب کی صدارت لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کی۔بخت گیر چودھری نے تقریب میں دل کی باتیں کیں کے دل کی باتیں کیں اور اپنے سیاسی اور صحافتی سفر کے چیدہ چیدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا۔بخت گیر چودھری نے انکشاف کیا کہ انہوں بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ کے سیاسی کارکن کے طور پر دو سال جیل کاٹی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں دو سال نواب زادہ نصر اللہ کے سیکرٹری کے طور پر کام کیا پھر جرنلزم میں آگئے اور اپنے جگری دوست حامد نواز کو بھی اسی شعبے میں لے آئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نواب زادہ نصراللہ کے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے ساتھ اچھے مراسم تھے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے نواب صاحب کی سفارش پر ہی علامہ صاحب کو جدہ منتقل کرنے کے لیے خصوصی جہاز فراہم کیا۔نواب صاحب نے پہلے خود وزیر اعظم جونیجو سے بات کی اور پھر علامہ صاحب کے گھر فون کرکے اطلاع بھی دی۔تب علامہ کے بیٹے ابتسام الہٰی نو عمر تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب کسی نے نواب زادہ نصراللہ کو ٹیلی فون پر جنرل ضیا الحق کے طیارے کے کریش ہونے کی خبر دی تو وہ ان کے پاس کھڑے تھے۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے نواب زادہ نصراللہ خان کے ساتھ رہتے ہوئے کئی لوگوں کے امریکہ کے ویزے لگوائے لیکن کبھی اپنے لیے کبھی ایسا خیال نہیں آیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں پولیس میں نوکری کی آفر بھی ہوئی لیکن انہوں نے یہ پیش کش بھی ٹھکرادی۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد محترمہ کلثوم نواز کو گریس فل سیاسی خاتون قرار دیا اور دونوں جو سیاسی مشورے دینے کا بھی دعویٰ کیا۔بخت گیر چودھری نے بتایا کہ جب وہ پی یو جے کے صدر بنے تویونین کے دفتر دیال سنگھ مینشن میں جالے لگے اور اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔انہوں نے اس وقت کے گورنر میاں اظہر مرحوم اور سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے تعاون سے بھوت بنگلہ عمارت کا حلیہ بدل دیا۔انہوں نے سیاسی نصیحت کرتے ہوئے کہا سیاست یہ ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو عزت دیں ورنہ یہ ڈرٹی پالیٹکس کہلائے گی۔صدر ارشد انصاری نے بخت گیر چودھری کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے اپنے سینئر ساتھیوں کی شاندار خدمات کا نہ صرف اعتراف کرنا چاہیے بلکہ ان کے تجربات سے سیکھنا بھی چاہیے۔ اس موقع پر صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر افضال طالب اور ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی نے بخت گیر چودھری کی دستار بندی کی اور انہیں کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش کی جبکہ قرا کلب کی جانب سے بخت گیر چودھری کو قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا گیا۔ تقریب میں تلاوت قرآن پاک کی سعادت عمران نومی نے حاصل کی۔نظامت سعید اختر نے کی۔ حامد نواز مہمان خصوصی تھے۔ صاحب تقریب بخت گیر چودھری نے اپنی سیاسی اور ٹریڈ یونین کی جدوجہد کے بارے میں بتایا اور کہا کہ جمہوری عمل میں اپنے مد مقابل کی عزت کرنی چاہیے۔تقریب میںپریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب ، ممبران گوررننگ باڈی سرمد فرخ خواجہ ، شاہدہ بٹ، آرٹ ، کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے ارکان عبداللہ ، شفقت حسین ، ندیم شیخ کے علاو ¿ہ سینئر صحافی ،ندیم سلیمی،اقبال بخاری ، انوار قمر ، حبیب اللہ چوہان ،جی ایم قادری ،عمر شریف ، اعجاز احمد بٹ ، محمد رفیق خان ، فرزانہ چودھری ،صبا ممتاز بانو ، عذرا نور ، ثمن عروج ، خالد امین ،حافظ جہانگیر ،رفیق یورش،فرقان قریشی ،حارث مرغوب،احسان بھٹی ، صادق جہانگیر ،مقبول رحمان،سہیل نیاز، سہیل کوثر، عمر شریف ،رانا یونس،نعیم خان ،میاں شبیر احمد ، سجاد احمد اعوان ، شیر افضل بٹ، یسین مغل ، نفیس قادری ،اقبال ہارپر ،فرخ علی ،سید منیب شجاع،شجاع احمد، محمد یونس ، سید شاکر علی شاہ ،جمیل احمد شیخ، زاہد شفیق طیب، خالد چودھری ، معروف شاعر بابا نجمی اور عاشق حسین ایڈووکیٹ بھی شریک ہوئے۔ ڈاکٹر شجاعت حامد نے بخت گیر چودھری کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ نواز طاہر ، تمثیلہ چشتی ، قمر بھٹی ، وسیم فاروق ، اعجاز مقبول ، رانا خالد قمر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور صاحب تقریب کی صحافی برادری کے لیے خدمات کو سراہا۔ آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی نے تقریب کے شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اپنے بڑوں کی پگڑیاں نہیں اچھالیں گے بلکہ انہیں دستاریں پہنا کر ان کا شملہ اونچا کریں گے۔
