تحریر:فرحان ملک
جو بویا تھا وہی کاٹ رہے ہیں: فضا علی، سہیل وڑائچ اور تھرڈ ڈگری الفاظ کی صحافت کا جنازہ۔
دنیا ٹی وی کے معروف آن دی فرنٹ پروگرام میں اداکارہ فضا علی کے ایک طنز نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، جس میں فضا علی نے معروف صحافی سہیل وڑائچ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ صحافی نہ ہوتے تو بیرون ملک کسی کے واش روم صاف کر رہے ہوتے۔پروگرام تو سیاسی ہوتا ہے لیکن عید قربان کی وجہ سے شاید مذاحیہ تھا فضا علی کےاس طنز سے بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ یہ طنز شوبز کی چٹپٹی بات ہے،مگر یہ جملہ نہ صرف بدتہذیبی کی حد کو چھو گیا بلکہ معاشرتی اخلاقیات، صحافتی ذمہ داری اور انسانی عزت کے بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہوا۔
ایک Verbal Aggression نفسیات کی اصطلاح ہے یعنی وہ زبانی طنز جو کسی کی عزتِ نفس، وقار اور شناخت کو مجروح کرتی ہے۔ان ڈائریکٹلی فضا علی کے الفاظ اسی اصلاح میں آتے ہیں۔سہیل وڑائچ پرکسا گیا یہ جملہ طنزیہ نہیں ہے بلکہ تذلیل ہے۔جب زبان تلوار بن جائے تو صرف دشمن ہی نہیں بلکہ خود بولنے والا بھی اسی دھار میں رگڑا جاتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا صرف فضا علی ذمہ دار ہیں؟ یا سہیل وڑائچ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں؟
سہیل وڑائچ کی صحافت ہمیشہ سے متنازع اور ون سائیڈ رہی ہے ان کی تحریروں میں استعارے، علامتیں، طنزیہ جملے، تھرڈ ڈگری الفاظ کا استعمال ،بنیادی اخلاقیات کی گراوٹ اور اختلاف رائے کو ذاتیات تک ہوتی ہیں،انھوں نے ہمیشہ ذاتی خواہش کو صحافت کا نام دیا،سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے متعلق جو”تھرڈ ڈگری”طرز کی زبان انھوں نے استعمال کی،کیا کوئی صاحب عقل آدمی اس کو صحافت کہہ سکتا ہے؟انھوں نے ہمیشہ ذاتی رائے اور تعصب بندی کو ایسے پیش کیا جیسے وہ سچائی کا پیمانہ ہوں۔
جب ایک سینئر صحافی دوسروں کے وقار، خیال اور اختلاف پر طنز کرتا ہے تو وہ دراصل معاشرے کو اجازت دے رہا ہوتا ہےکہ عزت کے لائق صرف وہی ہیں جنہیں ہم عزت دیں۔سہیل وڑائچ نے جس انداز میں سیاسی و سماجی شخصیات پر تحقیر آمیز فقرے کسے،تھرڈ ڈگری الفاظوں کا استعمال کیا،بنیادی اخلاقیات کو پامال کیایہ وہی ہے کہ جس روایات کی بنیاد آپ نے رکھی ہےیعنی جو آپ نے بویا ہے اب اسی کے کاٹنے کا وقت آگیا ہے جو رویہ آپ دوسروں کے ساتھ رکھتے تھے،وہی کسی نہ کسی شکل میں آپ کی طرف لوٹ رہا ہے۔
میرا ایک سادہ سا اصول ہے کہ آپ بڑے سے بڑے لکھاری ہیں آپ کے اندر انتہاء پسندی ہے،ذاتی خواہش کو سچ سمجھتے ہیں،اختلاف رائے کو ذاتیات تک لیکر جاتے ہیں،گالیاں دیتے ہیں،بنیادی اخلاقیات کو پامال کرتے ہیں،ون سائیڈ لکھ رہے ہیں تو آپ کی خواہش اور رائے ہیں اگر اس کو سچ تسلیم کروانے پر اترتے ہیں تو آپ میرے لئے پڑھے لکھے جاہل ہیں میں اس لکھاری یا مصنف کو کبھی نہیں پڑھتا نہ اس کی وال پر کوئی کمنٹ کرتا ہوں۔
مجھے عمران خان کی جارحانہ سیاست سے شدید نفرت ہے، نواز شریف اور شہباز شریف سے تو بہت زیادہ نفرت ہے لیکن میں ان موضوع پر لکھتا ہی نہیں ہوں،کیونکہ میں انسان ہوں،میں اس میں جذبات میں آکر ذاتی چیزوں کو لیکر آؤں گا جس سے میں بنیادی اخلاقیات کی پاسداری نہیں کروں گا، جب میں معاشرتی اخلاقیات، صحافتی ذمہ داری اور انسانی عزت کے بنیادی اصولوں پر قائم نہیں رہ سکوں گا تو میں پڑھا لکھا جاہل ہوں گا اور میں معاشرہ کی اصلاح نہیں بلکہ بگاڑ کا سبب بنوں گا۔
پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت ہی یہی ہے کہ معاشرے میں اخلاقیات کو ترجیح دیں نہ کہ ذاتی خواہش پر تھرڈ ڈگری الفاظ استعمال کریں۔سہیل وڑائچ کے پھل کاٹنے کا وقت ہےاورجس جس نے اس معاشرے میں ایسی چیزوں کو پروان چڑھایا ہےوہ لازمی پھل کاٹے گا۔ہمارے معاشرے میں صحافت و سیاست بالکل بھی محفوظ نہیں ہے،تھرڈ ڈگری الفاظ اب سینئر صحافی سے لیکر نئے میدان میں آنے والے تک استعمال کرتے ہیں،سیاست میں لیڈر سے لیکر سیاسی ناسمجھ رکھنے والا کارکن بھی استعمال کر رہا ہے۔عزت کمائی جاتی ہے،چھینی نہیں جا سکتی۔(فرحان ملک کی وال سے)
