اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی سہراب برکت کی ایف آئی آر نمبر 330/2025 میں ضمانت منسوخ کرنے کا ماتحت عدالت کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اپنے خلاف درج تمام چار مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔ یہ مقدمات زیادہ تر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت درج کیے گئے تھے۔عدالتی فیصلے کے بعد سہراب برکت کی تین ماہ سے زائد جاری رہنے والی حراست کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ ان کے وکیل سعد رسول نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ہائی کورٹ نے جج ماجھوکا کی جانب سے ایف آئی آر نمبر 330/2025 میں دی گئی ضمانت کی منسوخی کا حکم ختم کر دیا ہے، جس سے ان کے مؤکل کو مکمل قانونی ریلیف مل گیا ہے۔سہراب برکت، جو آن لائن نیوز پلیٹ فارم سیاست ڈاٹ پی کے سے وابستہ ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں، کو نومبر 2025 کے اواخر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ بیرون ملک سفر کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ میں شامل تھا، تاہم ان کے وکیل کا مؤقف تھا کہ انہیں متعلقہ اجازت حاصل تھی۔گرفتاری کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ان کے خلاف مختلف اوقات میں چار ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان مقدمات میں سوشل میڈیا پر ایسا مواد نشر کرنے کے الزامات شامل تھے جسے ریاست مخالف یا ریاستی اداروں کو دھمکانے کے مترادف قرار دیا گیا۔دسمبر 2025 میں ایک ضلعی عدالت نے ایک مقدمے میں انہیں بعد از گرفتاری ضمانت دی، تاہم اس کے بعد مزید مقدمات اور قانونی کارروائیاں سامنے آتی رہیں۔ فروری 2026 میں لاہور ہائی کورٹ نے ایک ایف آئی آر میں ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی، جس کے باعث ان کی حراست برقرار رہی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسی نوعیت کے ایک اور مقدمے میں انہیں ضمانت دے دی، جسے ان کی قانونی ٹیم نے ترمیم شدہ پیکا قانون کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا۔قانونی پیچیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایک ماتحت عدالت نے ان کی پہلے سے منظور شدہ ضمانت کو اس بنیاد پر منسوخ کر دیا کہ وہ مبینہ طور پر تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے تھے۔ تاہم ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت کے غلط استعمال یا تفتیش میں مداخلت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، جہاں اب منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔یہ مقدمہ صحافتی حلقوں اور آزادیٔ اظہار کے حامیوں کی توجہ کا مرکز بھی بنا رہا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے فروری 2026 میں ایک بیان میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ سہراب برکت کو رہا کیا جائے اور صحافیوں کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے استعمال پر نظرثانی کی جائے۔ سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز نے بھی اس معاملے کو آزادیٔ صحافت کے تناظر میں زیر بحث لایا۔قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس نے پیکا کے تحت درج ہونے والے ڈیجیٹل اظہارِ رائے سے متعلق مقدمات کی نوعیت اور عدالتی عمل کو نمایاں کیا ہے۔ گرفتاری، ضمانت، ضمانت کی منسوخی اور نئی ایف آئی آرز کے تسلسل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ایسے معاملات میں تفتیشی اداروں اور عدالتی فورمز کے درمیان ہم آہنگی کا مؤثر نظام موجود ہے یا نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سہراب برکت اس وقت اپنے خلاف درج تمام مقدمات میں ضمانت پر ہیں، تاہم بنیادی مقدمات کی سماعت متعلقہ عدالتوں میں جاری رہے گی۔ مبصرین کے مطابق یہ کیس آئندہ دنوں میں پیکا کے تحت درج مقدمات اور صحافتی سرگرمیوں کے قانونی دائرہ کار سے متعلق اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
