سہراب برکت کی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست۔۔

سیاست ڈاٹ پی کے سے تعلق رکھنے والے صحافی سہراب برکت کے وکلا نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے، جو کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون پیکا میں حالیہ  ترامیم کے تحت ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچنے والا پہلا مقدمہ ہے۔ سہراب برکت گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، اور ان کی قانونی ٹیم کے مطابق یہ مقدمہ نئے قانون کے تحت آزادیِ اظہار اور صحافت کی حدود واضح کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔سہراب برکت کے وکیل  بیرسٹر  سعد رسول نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ درخواست آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دی جائے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پیکا ترامیم کے  نفاذ کے بعد متعدد صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو اس قانون کے تحت گرفتاری یا فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سہراب برکت کا کیس پہلا ہے جو سپریم کورٹ تک پہنچا ہے، اور یہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک نظیر قائم کر سکتا ہے۔سہراب برکت کو نومبر میں اسلام آباد ایئرپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے  اس وقت حراست میں لیا جب وہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ یہ گرفتاری اس کے باوجود عمل میں آئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی 31 اکتوبر 2025 سے ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈنٹیفکیشن لسٹ سے نکالنے کا  حکم دے چکی تھی۔ اس صورتحال نے صحافیوں سے متعلق مقدمات میں قانونی تجاوز اور انتظامی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے سہراب برکت کے خلاف تیسرے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ان کی حراست دو ماہ سے زائد ہو گئی۔ یہ فیصلہ جسٹس ایم جاوید ظفر نے محفوظ کرنے کے تقریباً دس دن بعد جاری کیا، جس پر پاکستان میں میڈیا اور قانونی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا۔سعد رسول کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت اس بنیاد پر مسترد کی کہ  سہراب برکت کواور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے درج ایک مقدمے میں  مفرور قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، برکت اس وقت بھی حراست میں ہیں حالانکہ وہ اپنے خلاف درج دیگر دو مقدمات میں ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔بیرسٹر سعد رسول نے  عدالت کے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے یا این سی سی آئی اے نے کبھی بھی سہراب برکت کو کسی ایف آئی آر کے سلسلے میں طلب نہیں کیا، اور نہ ہی انہیں مفرور قرار دینے سے متعلق کوئی عدالتی نوٹس موصول ہوا۔ ان کے مطابق، برکت کو سفر کے وقت کسی زیرِ التوا مقدمے کا علم ہی نہیں تھا۔یہ مقدمہ پیکا ترامیم کے  تحت پاکستانی صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے قانونی خطرات کی عکاسی کرتا ہے اور ڈیجیٹل اظہارِ رائے کی حدود متعین کرنے میں سپریم کورٹ کے ممکنہ کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ میڈیا اداروں اور صحافیوں کو اس کیس پر گہری نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اس کے قانونی حکمتِ عملی، نیوز روم پریکٹسز اور پریس فریڈم کے تحفظات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں