سینئر صحافی، کالم نویس اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے انتہا پسندوں اور یوٹیوبرز کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ ہرایک کوملزم، لفافی اور ٹاؤٹ سمجھتے ہیں انکا یہ بھی غلط خیال ہے کہ تاریخ میں پہلی بار مزاحمت بھی انہوں نے کی ہے اور تاریخ کی سب سے زیادہ سختیاں بھی انہوں نے برداشت کی ہیں انکی تیسری غلطی یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف یا اپنے ساتھی کی ذراسی فروگزاشت یا اعتراض معاف کرنے کوتیار نہیں۔ حالانکہ ایم آر ڈی نے تحریک چلانی تھی تو پیپلز پارٹی نے اپنے شدید ترین سیاسی مخالفوں کیساتھ اتحاد بنایا۔ پی ڈی ایم بھی شدید مخالفوں کا اتحاد تھا جس نے عمران خان کواقتدارسےرخصت کرکے چھوڑا۔ تحریک انصاف3سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کسی جماعت کے ساتھ صلح کرسکی نہ کوئی اتحاد بناسکی اور نہ جمہوری تحریک کا ایجنڈا ہی دے سکی ہے۔ ۔جنگ میں اپنے تازہ کالم میں سہیل وڑائچ مزید لکھتے ہیں کہ ۔۔باقی رہی بات سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کے جھوٹ اور خودساختہ بیانیے کی، اسکا حل قومی میڈیا کے بندھے ہاتھ کھولنے اور غلط نیوز پر موثر قانون کا نفاذہے۔ ٹی وی کیلئے توپیمرا کا قانون ہے سوشل میڈیا کے معیار پر چیک رکھنے کیلئے پیمرا جیسا ادارہ بننا چاہیے جس میں سرکار بھی ہو اور آزاد لوگ بھی ہوں تاکہ دنیا بھر میں یہ تاثر ختم ہوکہ ملک میں اظہار رائے پر پابندیاں ہیں۔ دنیا کی تاریخ کا جائزہ لے لیں دنیا کے بڑے جھوٹوں کا مقابلہ سچ کے ٹھنڈے وار سے ہوا ہے ۔فیک نیوز کو ختم کرنے کیلئے سچی نیوز توڑ ثابت ہونگی، من پسند تشریحات کا علاج سچ ثابت ہونیوالی تشریحات اور تجزیے ہوتے ہیں۔ پابندیوں سے جھوٹ اور غلط تجزیوں کا مقابلہ نہیں ہوتا اسکا مقابلہ آزادیوں سے ہوتا ہے اگر آزادی ہوتو دوسرے ہی روزجھوٹا بیانیہ اور فیک نیوز پٹنا شروع ہوجائے۔ یاد کریں کہ بڑے بڑے ناموں کی گرفتاری کے دعوے کئے گئے جو سب جھوٹ نکلے مگر قومی میڈیا ان کا مقابلہ نہ کرسکا کیونکہ نہ اسکی رسائی تھی اور نہ اسے آزادی تھی۔ جتنی جھوٹی کہا نیاں، اندرونی باتیں اور خفیہ سازشیں روزانہ یوٹیوبرز افشاکرتے ہیں کیا متبادل میڈیا انکی تحقیق کرکے انہیں غلط نہیں ثابت کرسکتا؟۔بالکل کرسکتا ہے اگر آزاد میڈیا کو موقع ملے تو۔۔
