سنوٹی وی کا کیمرہ مین رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

تحریر: ذوالفقار علی ببر (آزاد صحافی)

صحافت کا پیشہ تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سچ کی پاسداری کا تقاضا تو دوسری طرف اپنی عزتِ نفس اور پیشے کے تقدس کا بھرم۔ لیکن جب اس مقدس چادر کو اوڑھ کر کوئی بھیڑیوں کا کردار ادا کرنے لگے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور قلم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید کسی کے ضمیر پر دستک ہو جائے۔

یہ واقعہ پاپوش نگر قبرستان کے قریب پیش آیا۔ میں وہاں اپنے کسی ذاتی کام سے گیا تھا کہ اچانک ایک شور و غل نے مجھے متوجہ کیا۔ دیکھا تو تعمیراتی شعبے سے وابستہ ایک بلڈر، جسے میں ذاتی طور پر جانتا تھا، اور اس کے ساتھیوں نے ایک شخص کو گھیر رکھا تھا اور ماحول خاصا کشیدہ تھا۔ قریب جانے پر جو حقیقت کھلی، اس نے میرے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔

پکڑا جانے والا شخص ہمارے ہی شعبے کا ایک کیمرہ مین تھا، جو کبھی خود کو یوٹیوبر ظاہر کر رہا تھا تو کبھی بڑے میڈیا گروپس کا نمائندہ۔ اس نے بلڈر کو بلیک میل کرنے کے لیے جیو نیوز اور بول نیوز کے پرانے کارڈ استعمال کیے۔ ستم ظریفی یہ کہ جس وقت وہ ان بڑے ناموں کی آڑ لے رہا تھا، اس وقت وہ درحقیقت “سنو ٹی وی” میں بطور کیمرہ مین ملازم تھا۔ جب اس کی اصلیت کھلی تو معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔

کسی ساتھی کو، چاہے وہ کتنا ہی قصوروار کیوں نہ ہو، اس حال میں دیکھنا ایک تکلیف دہ امر تھا۔ چونکہ میری اس سے پہلے بھی کوئی خاص دوستی یا تعلق نہیں تھا، اس لیے مجھے اس بات کا شدید خدشہ ہے کہ وہ اب یہ سمجھ رہا ہوگا کہ میں نے ہی اس کی ریکی کر کے اسے پکڑوایا ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ میرا وہاں پہنچنا محض ایک اتفاق تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر مداخلت کی، بلڈر سے بات کی اور اپنی ذاتی حیثیت میں اس کی جان چھڑوائی۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ پیشے کی مزید جگ ہنسائی نہ ہو اور کسی کی عزت سرِ بازار نیلام ہونے سے بچ جائے۔

آج یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف اور صرف اصلاح ہے۔ میں اس کالم کے ذریعے سب سے پہلے اسی شخص کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ حقیقت وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ تمہیں پھنسوانے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا اور میرا وہاں پہنچنا پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ میں تمہارا دوست بھلے نہ ہوں، لیکن تمہارا دشمن ہرگز نہیں۔ اگر میری نیت میں کھوٹ ہوتا تو میں تمہیں بچانے کے بجائے تماشا دیکھتا۔

میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا کسی کی عزتِ نفس پر حرف لانا ہرگز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس کا نام نہیں لے رہا۔ یہ تحریر اس کے لیے بھی ایک پیغام ہے اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں۔

خدارا! اپنے پیشے کی حرمت کا خیال کریں۔ معاشی مشکلات ہم سب کے ساتھ ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنا ضمیر بیچ دیں۔ اس سے پہلے کہ عوام کا اعتبار کیمرہ اور مائیک اٹھانے والے ہر شخص سے اٹھ جائے، ہمیں خود اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی اصلاح خود کرنی ہوگی، ورنہ تاریخ ہمیں بھی مجرموں کی صف میں کھڑا کرے گی۔(  ذوالفقار علی ببر (آزاد صحافی)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں