قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخی کلامی ہوگئی۔پلوشہ خان نے کہاکہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے جس پر عبد العلیم خان نے کہا کہ آپ عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت ہم کریں گے، آپ لوگ ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔عبد العلیم خان نے پلوشہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شٹ اپ جس پر پلوشہ خان نے کہا یو شٹ اپ۔عبد العلیم خان نے کہا کہ سارے زمانے کے بے ایمان یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔پلوشہ خان نے کمیٹی چیئر مین سے کہا کہ جو بدتمیزی وزیر نے کی ہے اس پر رولنگ دیں، کیا نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لینا جرم ہے، میں نے سوال پوچھا ہے۔ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چئیرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی۔اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاو کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔جمعے کو سینیٹر پرویز رشید کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر مواصلات علیم خان سے کمیٹی ارکان نے مختلف سوالات پوچھے لیکن سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر علیم خان اور اُن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔اجلاس کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کمیٹی کے ارکان، دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بظاہر اس میں ناکام رہتے ہیں۔اجلاس کے دوران پلوشہ خان سے تلخ کلامی کے دوران علیم خان نے کہا کہ ’مجھ پر ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا، میں اس سوال کو اپنی تذلیل سمجھتا ہوں۔علیم خان کا کہنا تھا کہ ’میں اس لیول پر نہیں آنا چاہتا، جس پر آپ آ گئی ہیں۔ میں نے تو جواب دے دیا، آپ جواب نہیں دے پائیں گی۔غصے میں بھرے علیم خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’اس کمیٹی میں سارے بے ایمان بیٹھے ہوئے ہیں۔اس دوران پلوشہ خان نے علیم خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس سوال پر غصہ اس لیے کر رہے ہیں، کیونکہ آپ قصوروار ہیں۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے اُن سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ سیلاب کے دوران اُن کی سوسائٹی کیسے ڈوبی اور کیسے لوگ کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا، میرا سوال کچھ اور تھا۔پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت، خود کو اب جواب دہ ہی نہیں سمجھتی، کیا اب یہ ڈنڈے سے لوگوں کو خاموش کروائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ’کمیٹی کے ارکان کو بے ایمان کہا گیا حالانکہ ان کی اپنی وزارت کے کرتوت آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ہیں۔واضح رہے کہ اگست میں پاکستان میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے لاہور میں واقع علیم خان کی سوسائٹی پارک ویو کا کچھ حصہ بھی دریائے راوی میں آنے والے سیلاب کی زد میں آ گیا تھا۔اس وقت متاثرین کی جانب سے یہ الزامات لگائے گئے تھے کہ یہ سوسائٹی، دریا کی زمین پر بنائی گئی، جس کی وجہ سے لوگوں کے گھر ڈوبے لیکن علیم خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے سرکاری محکموں کی اجازت سے یہ زمین خریدی۔بی بی سی نے اس معاملے پر جب علیم خان کا موقف جاننے کے لیے ان کے پرسنل سیکرٹری گوہر عزیز سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ علیم خان کا مؤقف وہی ہے، جو وہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بیان کر چکے ہیں۔بی بی سی نے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے کمیٹی کے چیئرمین پرویز رشید کو بھی پیغامات بھیجے لیکن اُن کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
