سما ڈیجیٹل کیلئے اعزاز،رپورٹر واجد علی کی کامیابی۔۔۔

سما ڈیجیٹل کے صحافی واجد علی نے اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے منعقدہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹنگ کے مقابلے میں کامیابی حاصل کر لی، اُن کی اُس اسٹوری پر جس میں پاکستان کے پسماندہ طبقے، خاص طور پر سٹریٹ ورکرز، کی موسمیاتی خطرات کے سامنے کمزوری کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اُن کی فیچر رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدید گرم موسم اور ماحولیاتی خطرات کا روزانہ سامنا کرنے والے یہ کارکن موسمیاتی تبدیلی کو سائنسی مسئلہ کے بجائے عقیدے کی روشنی میں کس طرح سمجھتے ہیں۔اُن کی انعام یافتہ رپورٹ کا عنوان “پاکستان کے سٹریٹ ورکرز موسمیاتی تبدیلی کو خدا کی مرضی کیوں سمجھتے ہیں” تھا۔ اس میں یہ عام خیال نمایاں کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کو انسانی طرزِ عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی آزمائش سمجھا جاتا ہے۔ اس سوچ میں پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے لیے، واجد نے مذہبی اسکالرز سے مشاورت کی تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ مذہب اور سائنس کی تفہیم کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہے اور کس طرح موسمیاتی آگاہی کو زیادہ قابلِ فہم بنایا جا سکتا ہے۔اُن کی کامیابی کے اعتراف میں، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے واجد علی کو اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع اپنی رہائشگاہ پر مدعو کیا، جہاں کلائمیٹ جرنلزم کی لیڈز سنیہ لالہ، نمرہ ظہیر اور رابعہ ملک بھی موجود تھیں۔ انہوں نے واجد کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے کمزور کمیونٹیز کی آواز کو اُجاگر کیا اور مذہب، ثقافت اور موسمیاتی آگاہی جیسے حساس موضوع کو بہترین انداز میں پیش کیا۔میریٹ نے واجد کے دلائل کی مضبوطی کو سراہا اور کہا کہ ان کی سفارشات مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عوامی پیغام رسانی کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بھر میں مذہبی رہنماؤں کے اثرورسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں آگاہی پروگراموں میں شامل کرنا ضروری ہے۔ہائی کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، صحافیوں کو تعاون کے ساتھ حل پر مبنی رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واجد جیسے جامع اور ثقافتی طور پر مربوط کہانی بیان کرنے کے انداز سے کمیونٹی کی مزاحمت یعنی ریزیلیئنس کو تقویت مل سکتی ہے۔یہ مقابلہ برطانوی ہائی کمیشن کے جاری اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں موسمیاتی صحافت کو مضبوط بنانا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں شروع کیے گئے تربیتی پروگرام اور رپورٹنگ کی مختلف سرگرمیاں صحافیوں کو موسمیاتی اثرات، ریزیلیئنس حکمتِ عملیوں اور عوامی آگاہی کی مہمات پر رپورٹنگ کے لیے ضروری اوزار اور معلومات فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں