تحریر:نورالامین دانش
آج صبح سویرے ایک دوست جو کہ سالانہ چھٹیوں پر گاؤں گیا ہوا تھا، اچانک زمین پر خود کو مخلوق خداوندی کے رازق سمجھنے والے ایچ آر سے کال موصول ہوتی ہے کہ جناب آپ کی اب ضرورت نہیں رہی آپ واپس تشریف مت لائیے گا۔ایک ایسا شخص جس نے نہ صرف خود بلکہ اس کے معصوم بچوں نے بھی علیم خان کے سما ٹی وی کو اپنا گھر سمجھ لیا تھا، وہ سکول میں بڑے فخر سے کلاس فیلوز کو بتاتے تھے کہ سما ٹی وی میرا چینل ہے اور کبھی کبھی ان کا بیپر بھی چل جاتا تھا۔نہ کوئی نکالے جانے کی وجہ بتانے کی زحمت کر رہا ہے بھلے وہ جنگل کے معاشروں میں کسی کو یہ بتانے کی ضرورت کہاں ہوتی ہو گی۔ رہی بات باقی میڈیا ورکرز کی تو وہ جو لوگ اس پر آواز اٹھا رہے ہیں ان کو یہ کہہ کر منع فرما رہے ہیں کہ آواز مت اٹھانا کل کو سما ٹی وی میں جاب کے لئے تم پر پابندی لگ جائے گی۔سما ٹی وی جو کبھی اپنی خبروں میں سب سے آگے تھا آج دھڑے بندی اور پراپرٹی ڈیلرز کے فون کے بغیر جوائن کرنے پر آپ کی صحافت کا انجام یہی ہو گا۔
دو تین برس قبل کیمرہ مین عامر کے علاج میں غفلت کے باعث موت پر آواز اٹھانے پر بھی ایسا ہی ہوا تھا اور نیوز روم میں کھڑے دو خونخوار پتھر دل شکاریوں نے کہا تھا ہمیں سب پتا ہے، ایف آئی اے سے ریکارڈ نکلوا رہے ہیں کہ کون کیمرہ مین عامر کی خبریں نورالامین تک پہنچا رہا ہے۔ آپ بے شرمی اور ڈھٹائی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث موت پر بجائے آواز اٹھانے کے وہ باقیوں کو بھی خبردار رہنے کی تنبیہ کرتے رہے۔ مالکان کی ٹی سی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے صاحبان بھی سن لیں سب ایک ایک کر کے ایسے ہی نکالے جائیں گے۔ نمبر سب کا لگے گا۔ بہر حال علیم خان صاحب چلیں صحافت نہ کریں کم از کم کاروباری انداز سے ہی دیکھ لیں۔ اگر آپ بلڈر کی نگاہ سے بھی دیکھیں تو یقینی طور پر Stupid question to Kohli والوں کو ہائر کرنے یا کروانے والوں کو کوئی اپنا جسمانی و ذہنی معذوری کا شکار ملازم بھیج کر افسر ہی بھرتی کروا لیں۔ پھر جو آپ کو وہ جواب دیں آپ بھی کہئے گا جناب میرے چینل میں بھی ایسے لوگوں کی جگہ نہی بنائی جا سکتی۔(نور الامین دانش)۔۔
(زیرنظر تحریرنورالامین دانش کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لی گئی ہے۔۔جس کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔
