پاکستان نے نجی نیوز چینل ’اے آر وائی‘ کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر سلمان مرزا پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق خبر پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے ایجنڈے پر مبنی فیک نیوز کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں اور یہ خبر نشر کرنے والے صحافی کو بغیر کسی تاخیر کے معافی مانگنی چاہیے۔پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پی سی بی اس بھونڈے طرز عمل سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے گا۔پی سی بی کے علاوہ فاسٹ بولر سلمان مرزا نے بھی اس خبر کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے صحافی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب چینل انتظامیہ کا موقف ہے کہ خبر دینے سے قبل تمام صحافتی اُصولوں کا خیال رکھا گیا، لہذا اس معاملے پر معافی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بی بی سی نے اس معاملے پر موقف جاننے کے لیے یہ خبر دینے والے سینیئر سپورٹس جرنلسٹ شاہد ہاشمی سے رابطہ کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کریں گے۔لیکن ’اے آر وائی نیوز‘ کے صدر عماد یوسف نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ایک خبر کی تصدیق کے لیے دو ذرائع درکار ہوتے ہیں۔اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اس خبر میں دو ذرائع نے تصدیق کی، ان میں سے ایک ذریعہ یہاں (پاکستان) کا جبکہ دوسرا ذریعہ وہاں (سری لنکا) کا ہے۔رپورٹر نے پوری طرح چیک کر کے اس خبر کو فائل کیا اور وہ اپنی سٹوری پر قائم ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلمان مرزا کی جانب سے فوری معافی کے مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے عماد یوسف کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کوئی سٹوری کریں اور کوئی شخص اس کی تردید کرے اور آپ سے معافی کا مطالبہ کرے لیکن آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی سٹوری ٹھیک ہے تو پھر کس بات کی معافی؟جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ یہ سٹوری ذرائع کے حوالے سے چلائی گئی اور اس میں کوئی ثبوت نہیں تو اس پر عماد یوسف کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کو دیکھ لیں گے لیکن ضروری نہیں ہوتا کہ ہر سٹوری کے ذرائع سامنے لائے جائیں، رپورٹر کا اپنی خبر پر قائم رہنا ہی کافی ہوتا ہے۔
