کراچی پریس کلب اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے رکن سینئر صحافی شہاب سلمان کی کراچی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی رپورٹ وزیرداخلہ سندھ نے ایس ایس پی کورنگی سے طلب کرلی۔۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کاکہنا ہے کہ ۔۔میرٹ شفافیت اور غیرجانبداری کو فوقیت دیں اور حقائق کو سامنے لائیں۔تمام صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھیں۔جامع انکوائری اور تحقیقات کرکے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ۔۔اپنے صحافی بھائیوں سے کہتا ہوں کہ پولیس کی تفتیش میں میرٹ اور شفافیت پر یقین کریں۔دوسری جانب وزیرداخلہ سندھ کی ہدایت پرایس پی شاہ فیصل کالونی اور ایس پی انویسٹی گیشن انکوائری افسر نامزد ہوگئے۔ ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے کہ دونوں افسران باہم اشتراک سے میرٹ پر انکوائری کو یقینی بنائیں۔گرفتار صحافی کی اہلیہ کی درخواست کو بھی انکوائری کا حصہ بنائیں۔تفتیش و تحقیق کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ترجیح دی جائے۔قبل ازیں ماڈل کالونی پولیس نے شہباز سلمان کو گرفتار کرلیا۔۔ کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے پریس کلب کے سینئر ممبر شہاب سلمان پر حملے کی کوشش اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے عہدیداران نے کہا ہے کہ شہاب سلمان ایک ذمہ دار اور پیشہ ور صحافی ہیں، اگر انہیں کسی واقعے میں خطرات لاحق تھے یا حملے کی کوشش کی گئی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری تھی کہ وہ صحافی کو تحفظ فراہم کرتے اور اصل ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے۔حقِ دفاع میں کیے گئے اقدام کو بنیاد بنا کر سینئر صحافی کو گرفتار کرنا افسوسناک اور قابلِ تشویش ہے، جبکہ یہ تاثر بھی انتہائی خطرناک ہے کہ شکایت کنندہ کے بجائے متاثرہ شخص ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔کراچی پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ شہاب سلمان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران کسی قسم کی ہراسانی یا انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے- کراچی پریس کلب کے صدر، سیکرٹری اور مجلسِ عاملہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کریں اور صحافی برادری کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے)نے کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر شہاب سلمان پر حملے کی کوشش اور بعد ازاں انہی کی گرفتاری کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کے یو جے کے صدر اعجاز احمد اور جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ شہاب سلمان ایک ذمے دار صحافی ہیں، اگر وہ کسی غیر قانونی معاملے میں ملوث ہوتے تو خود ہی تھانے کیوں جاتے! ان کےحقِ دفاع میں کیے گئے اقدام کو بنیاد بنا کر انہیں گرفتار کرنا افسوس ناک ہے، نیز یہ تاثر بھی خطرناک ہے کہ شکایت کنندہ کو ہی موردِ الزام ٹھہرادیا جائے! انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہاب سلمان کو فوری رہا، واقعے کی غیر جانب دارو شفاف تحقیقات اور صحافی برادری کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چودھری اور سیکرٹری ریحان خان چشتی نے اپنے مشترکہ بیان میں ماڈل کالونی پولیس کی جانب سے سینئر صحافی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، کے یو دستور کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چند روز سے کچھ عناصر خبریں چلانے پر شہاب سلمان کو دھمکیاں دے رہے تھے جبکہ گزشتہ شب انہی عناصر نے شہاب سلمان پر حملے کی کوشش کی جس پر شہاب نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس کے فوری بعد شہاب سلمان خود مدد کیلئے تھانے پہنچے لیکن پولیس نے انکی مدد کرنے کے بجائے انہی کو گرفتار کر لیا، مزید برآں ماڈل کالونی تھانے کے اہلکاروں نے نہ صرف جرائم پیشہ افراد کی معاونت کرتے ہوئے شہاب سلمان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی بلکہ شہاب سلمان کی اہلیہ کی جانب سے دی گئی درخواست کو بھی ریسیو کرنے سے انکار کردیا، کے یو جے دستور نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے اعلی حکام سے فوری مداخلت کرنے اور معاملے کی شفاف انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی جنرل سیکریٹری ندیم احمد اور مجلسِ عاملہ نے شہاب سلمان پر حملے اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سی آر اے کے جنرل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ شہاب سلمان پر حملے اور تھانے میں ہجوم کی صورت میں پولیس کو دبائو میں لیکر مقدمہ درج کروانے پر اعلی حکام فی الفور کارروائی کریں ۔ شہاب سلمان ایک ذمہ دار اور پیشہ ور صحافی ہیں، اگر انہیں کسی واقعے میں خطرات لاحق تھے یا حملے کی کوشش کی گئی تھی، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری تھی کہ وہ صحافی کو تحفظ فراہم کرتے اور اصل ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے۔ حقِ دفاع میں کیئے گئے اقدام کو بنیاد بنا کر سینئر صحافی کو گرفتار کرنا افسوسناک اور قابلِ تشویش عمل ہے، جبکہ یہ تاثر بھی انتہائی خطرناک ہے کہ شکایت کنندہ کے بجائے متاثرہ شخص ہی کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔ شہاب سلمان جائے وقوعہ سے جان بچا کر متعلقہ پولیس کے پاس مدد حاصل کرنے کیلئے پہنچے تھے اور ایسے میں چند بااثر افراد کے ایماء پر انہیں ہی لاک اپ کرلینا آذادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے ۔ اس حوالے سے سیکریٹری سی آر اے ندیم احمد گزشتہ شب متعلقہ تھانے میں متاثرہ ممبر شہاب سلمان اور متعلقہ پولیس حکام سے ملاقات بھی کی اور معاملے کے حوالے سے تمام تر تفصیلات حاصل کیں۔ سی آر اے اپنے معزز ممبر کے ساتھ کھڑی ہے اور شہاب سلمان کو انصاف دلانے تک خاموش نہین بیٹھے گی ، صدر سی آر اے سمیر قریشی نے ایس ایس پی کورنگی سے بروقت رابطہ کرتے ہوئے شہاب سلمان کو تحفظ فراہم کرنے اور انکی شنوائی تحریری طور پر وصول کرنے پر زور دیا۔ دوسری جانب سی آر اے کی مجلس عاملہ صوبائی وزیر داخلہ کے واقعہ پر نوٹس لینے اور متاثرہ صحافی کو انصاف کی فراہمی میں اخلاقی و قانونی تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے، سی آر اے کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی کو مسترد کرتی ہے۔ سی آر اے واقعے کی شفاف تحقیقات اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت راست اقدام کا مطالبہ کرتی ہے
سلمان شہاب کی گرفتاری، وزیرداخلہ کا نوٹس، انکوائری کمیٹی کا اعلان۔۔
Facebook Comments
