سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے حکام ایک نجی ٹی وی کے مالک کے نام سے لاعلم نکلے جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے ممبر لیگل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی سے جائیں اور جاکر نجی ٹی وی کے مالک کا نام پتہ کرکے آئیں ، جس پر اجلاس میں موجود صحافی نے نجی ٹی وی کے مالک کا نام بتا دیا، پارلیمنٹ ہائوس میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سنیٹر پلوشہ کی زیرصدارت جاری تھا کہ اسپیکٹرم آکشن کیخلاف مقدمات پر بحث جاری تھی کہ سنیٹر سیف اللہ نیازی نے سوال اٹھایا کہ یہ بھی بتائیں کہ مقدمات کس نے کئے ہیں ہیں ، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی نے بتایا کہ یہ کبھی نہ ختم ہونے والا معاملہ ہے ،سپریم کورٹ تک مقدمات ہیں ۔اجلاس کی کارروائی سے متعلق سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے ایک ٹی وی شو میں بتاتےہوئے کہا کہ، وہاں سرکاری حکام اور سینیٹرز ٹی وی مالک کا نام لینے سے خوفزدہ تھے، حکام نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس لئے سلو ہے کہ نجی ٹی وی کے مالک نے جس کا تعلق کراچی سے ہے ، اس نے عدالتوں سے حکم امتناعی لے رکھا ہے اور تیرہ سال سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔ بعد میں نام سامنے ایک صحافی لایا، پھر یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی حکم امتناعی نہیں ، صرف مقدمات چل رہے ہیں۔۔لیکن وزیراعظم سے لے کر دیگر اعلیٰ شخصیات کو حکم امتناعی کا بتاکر اسپیکٹرم آکشن پر مزید کارروائی سے روکا گیا۔۔
