senior adakara corona se khoufzada

سابق ہیروزکی ماں کاکردار کرنا مشکل ہوتا ہے، زینب قیوم۔۔

اداکارہ و میزبان زینب قیوم نے اپنے آن اسکرین سابق ہیروز کی ماں کا کردار ادا کرنے پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کردار کرنا مشکل ہوتا ہے۔حال ہی میں زینب قیوم نے پی ٹی وی ہوم کے ٹاک شو میں بطور مہمان شرکت کی۔ پروگرام کے دوران انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آن اسکرین سابق ہیروز کی ماں کے کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی کھل کر بات کی۔اداکارہ زینب قیوم بھی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو شوبز میں مرد اداکاروں کی اجارہ داری اور حاکمیت کا شکار ہیں۔اکثر اداکاراؤں کو دیکھا گیا ہے وہ جس اداکار کے ساتھ ہیروئن آئی تھیں، چند برسوں بعد ڈراموں میں انہی اداکار کی ماں بھی بنیں۔یہ دہرا معیار عام ہے کہ مرد اداکار کو ہمیشہ ہیرو کے روپ میں دکھایا جاتا ہے جب کہ ان کے ساتھ کی ہیروئن کو چند سالوں بعد ہی ماں کے کردار ملنے لگتے ہیں۔زینب قیوم بھی ان اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جو آج کل ڈراموں میں اُن ہیروز کی ماں بن رہی ہیں جن کے ساتھ بطور ہیروئن آیا کرتی تھیں۔تاہم زینب قیوم کو اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کیوں کہ وہ کردار کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔حالیہ انٹرویو میں اس پر بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ جن کی آپ ہیروئن رہی ہیں پھر ڈرموں میں ان کی ماں بننا بہت مشکل اور چیلنجنگ کام ہوتا ہے۔زینب قیوم نے بتایا کہ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ آپ فیصل قریشی یا ہمایوں سعید جیسے اداکاروں کی ماں کا کردار کیوں قبول کر لیتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ میرا جواب یہی ہوتا ہے کہ میں اداکار سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس اور ہدایت کار کو ترجیح دیتی ہوں۔زینب قیوم نے مزید کہا کہ اسی طرح میں کردار پر زیادہ فوکس کرتی ہوں کہ میرے لیے کس کیریکٹر میں زیادہ اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا موقع ملے گا۔سوشل میڈیا صارفین نے زینب قیوم کے اپنے کام سے لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک فنکار کو اسی سوچ کا حامل ہونا چاہیے۔زی کیو کے نام سے شہرت رکھنے والی اداکارہ کے قابلِ ذکر ڈراموں میں خلش، محبت چھوڑ دی میں نے، کالا ڈوریا، انتقام، ریاست، سرکار صاحب، یہ زندگی ہے، جلیبیاں، محبت اب نہیں ہوگی، خمار، آنگن، پھر وہی محبت، برنس روڈ کے رومیو اینڈ جولیٹ اور خوشبو میں بسے خط شامل ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں