neo news mein drivers or reporters aik barabar

سابق ملازم نے نیونیوزکے خلاف واجبات کا کیس جیت لیا۔۔

گریجوایٹی اور تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیاں ، کارکن کے حق میں فیصلہ۔۔سابق کارکن نیو نیوز نے گریجوایٹی اور غیر قانونی تنخواہوں کی کٹوتی کے حوالے سے کیس دائر کر رکھا تھا۔۔ممبر این آئی آر سی محمد سراج الاسلام خان نے نصیب علی تبسم کے حق میں فیصلہ سنادیا۔۔نیو نیوز کے سابق کارکن نصیب علی تبسم نے گریجوایٹی اور تنخواہوں سے غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف دائر کیس میں کامیابی حاصل کرلی۔تفصیلات کے مطابق نصیب علی تبسم تقریباً بارہ سال تک نئی بات میڈیا گروپ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے نوکری کا آغاز روزنامہ نئی بات سے کیا، بعد ازاں انہیں اے لائٹ اور پھر نیو نیوز میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک ہی وقت میں نیو نیوز اور لاہور رنگ میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔سال 2023 میں استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے ادارے سے اپنی گریجوایٹی اور مختلف ادوار میں کی گئی مبینہ غیر قانونی تنخواہ کٹوتیوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، تاہم ادارے کی جانب سے ادائیگی سے انکار کیا گیا۔ جس پر نصیب علی تبسم نے بقایا جات کی وصولی کے لیے ویجز اتھارٹی سے رجوع کیا۔ اطلاعات کے مطابق ویجز اتھارٹی میں کیس خارج ہونے کے بعد انہوں نے لیبر کورٹ نمبر دو میں اپیل دائر کی، جہاں فاضل جج نے اتھارٹی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) منتقل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 12 فروری کو ممبر این آئی آر سی جناب محمد سراج الاسلام خان صاحب نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ نصیب علی تبسم کے حق میں سنا دیا۔ فیصلے کے بعد صحافتی حلقوں میں اسے ملازمین کے حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں