سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی وژن عطاء الحق قاسمی کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مرکزی فیصلے پر عملدرآمد رکوانے کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی، پرویز رشید اور فواد حسن فواد کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی فیصلے پر عملدرآمد سے درخواست گزاروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے عدالتی حکم پر عملدرآمد عارضی طور پر روکا جائے۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے کے بعض قانونی نکات پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس وقت تک عملدرآمد مؤخر کیا جانا چاہیے۔بینچ نے استفسار کیا کہ عملدرآمد روکنے کی فوری ضرورت کیا ہے اور اب تک متعلقہ حکام نے فیصلے پر کس حد تک عمل کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا درخواست گزاروں نے نظرثانی یا دیگر قانونی چارہ جوئی کے تمام دستیاب راستے اختیار کیے ہیں۔دورانِ سماعت فریقین کے وکلاء کے درمیان قانونی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی، جبکہ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکم امتناع جاری کرنے کے لیے(بادی النظر) مضبوط قانونی بنیاد کا ہونا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے بعض نکات پر وضاحت طلب کی جس سے کمرہ عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی کی فضا پیدا ہوگئی۔عطاالحق قاسمی کے وکیل کاشف ملک نے کہا کہ مرکزی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں اور سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جا چکا ، جسٹس نعیم اختر افغان نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ نظرثانی کی درخواستیں منظور ہو چکی ہیں ، فاضل عدلت نے فیصلے کی نقل طلب کرتے ہوئے حقائق کی تصدیق کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ،سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔
