تحریر: سید بدرسعید۔۔
شوبزنس میں سب کچھ ہوتا ہے بس محبت نہیں ہوتی ۔ ادیب ، صحافی اور فنکار کو حساس سمجھا جاتا ہے لیکن انہی شعبوں میں بے حسی عروج پر ہے ۔ سب سے زیادہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا یہیں ملے گا ۔ کئی معروف فنکار منظر سے ہٹے تو قابل رحم حالت میں پائے گئے ۔ ادیبوں اور شعرا کی بات ہی نہ کریں ۔ ناصر باغ چوپال میں حلقہ (ارباب ذوق) ہلکا ہی لگتا تھا پھر ایوان اقبال سے ہوتا ہوا حلقہ ارباب ذوق پاک ٹی ہاؤس تک پہنچا تو بھی شاعروں اور ادیبوں میں پائی جانے والی منافقت اور کم ظرفی ویسے کی ویسے تھی ۔ کئی برس ہوتے ہیں میں نے حلقہ کے اجلاس کو سنجیدہ نہیں لیا ، جانا تک چھوڑ دیا تھا ، غزل جیسی نازک اندام صنف کرخت دلوں میں سنانا اس کی توہین ہے ۔ حساس دلوں میں منافقت اور حسد اچھی نہیں لگتی، نواز کھرل نے البتہ حلقہ کی گرتی بنیادوں میں نئے موضوعات کا سیسہ بھرا تھا ان کے بعد وہ سلسلہ بھی تک گیا ۔ صحافت کے حالات اس سے بھی برے ہیں۔ اکٹھے کھانا کھانے والے اپنی نوکری بچانے کے لیے یار قربان کر دیتے ہیں ۔ شوبزنس کی طرح صحافت بھی حساس دلوں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ میں اس بات پر بہت کلیئر ہوں کہ ہمارے جنازوں پر صحافی نہیں ہوں گے ۔ ہم لاکھ کہیں کہ پریس کلب ہمارا دوسرا گھر ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس گھر کے مکینوں میں سے شاید ہی کوئی کندھا دے گا ۔ سینئر صحافی شہاب انصاری کے جنازے کے بعد کچھ دن اپ سیٹ رہا تو دل کو تسلی دی ، وہ سینیئر تھے ان کے ہم عصر صاحب فراش ہوں گے ۔ جنازے میں کہاں پہنچ پاتے ۔
جواں سال زین ملک کے جنازے نے یہ بھرم بھی توڑ دیا ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ جنازہ بہت بڑا تھا ۔ عین وقت پر جناز گاہ سے فٹبال گراؤنڈ منتقل کرنا پڑا, درجن سے زیادہ صفیں بنیں اور زین کے چاہنے والوں کا ہجوم تھا ۔ وکلا کی ایک بڑی تعداد تھی لیکن کل سے زین کا جو حوالہ دیا جاتا رہا وہ شعبہ حوالہ تک ہی رہا ۔ معین اظہر ، اعظم چودھری ، شہباز جندران ، آصف بٹ ، شاکر اعوان سمیت چند صحافی نظر آئے ۔ درجن بھر صفوں میں سے آدھی صف بھی نہ تھی ۔ زین ملک قومی سطح کے مختلف چینلز میں کام کر چکا تھا ، ڈیسک پر بھی نہیں تھا کہ تعلقات محدود ہوتے ۔ فیلڈ رپورٹر تھا ۔ موت بھی اچانک اور حادثاتی کہ سوچ کر دل تھم جاتا ہے ۔ تین سال قبل شادی ہوئی ، دو چھوٹے بچے تھے ۔ اچانک زندگی کی ڈور ٹوٹ گئی ۔ ہم اس فیلڈ سے ہیں کہ ہر بار لگتا ہے اپنے لوگوں کے جنازے میں کسے پرسہ دیں ، گلے لگنے کے لیے شناسا چہرہ نہیں ملتا ۔
یہ زین ملک کی داستان نہیں ہے ۔ ہم سب کی کہانی ہے ۔ مجھے یقین ہوتا جاتا ہے ، اپنے جنازے میں میڈیا کے دوست نہیں ہوں گے ۔ ہم جیسوں کی عمر کا ایک حصہ گھر والوں کی بجائے جن کے درمیان گزرتا ہے ان کی محبت کے لیے زندہ رہنا شرط ہے ۔ زین ملک کا جنازہ بڑا تھا ۔ ہم میں سے بھی بہت سو کے جنازے بڑے ہوں گے لیکن وہاں یہ بتاتے ہوئے اہل خانہ کو شرم محسوس ہو گی کہ مرنے والے کا تعلق صحافت سے تھا ۔ وہاں کسی نے کہہ دیا صحافی پہلی صف میں آ جائیں تو لوگ پوچھیں گے ، عمر بھر کی کمائی کیا ہوئی ؟ ساتھ رہنے والے صحافی کہاں گئے ؟(سید بدر سعید)۔۔
