سینیئر اداکارہ افشاں قریشی نے کہا ہے کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ان کے بیٹے فیصل قریشی کا اسٹار بننا تھا جب کہ سب سے بڑا دکھ ان کے شوہر کا جوانی میں انتقال کر جانا تھا۔افشاں قریشی نے حال ہی میں ’مذاق رات‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ انہیں فلموں میں کام کرنے کی پیش کش پہلے ہوئی تھی لیکن انہوں نے ٹیلی وژن سے کیریئر کا آغاز کیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ فلم کرنے کے لیے کراچی سے لاہور بھی چلی گئی تھیں لیکن وہاں سے ان کے ہونے والے شوہر عابد قریشی اچانک کراچی چلے آئے، جس وجہ سے ان کا دل بھی وہاں نہ لگا اور وہ فلم کی شوٹنگ سے قبل ہی واپس آگئیں اور کئی ماہ تک فلم ساز انہیں تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہ گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نےپی ٹی وی سے کیریئر کا آغاز کیا اور مرحوم عبدالکریم بلوچ نے انہیں پہلا موقع دیا جو انہیں شمیم آرا کا ہم شکل قرار دیتے تھے۔افشاں قریشی کے مطابق پی ٹی وی پر کام کرنے کے بعد ہی وہ فلمی ہیروئن بنیں اور ایک فلم کے دوران ہی انہیں عابد قریشی سے محبت ہوئی، جس کے بعد دونوں نے شادی کرلی۔اداکارہ نے بتایا کہ ان کے والد نے عابد قریشی کو رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ میمن ہیں، وہ بیٹی کا رشتہ دوسری برادری میں نہیں دیں گے، جس کے بعد وہ بھی ڈیڑھ ماہ تک روتی رہیں، تاہم بعد ازاں ان کے والدین مان گئے اور انہوں نے جوانی میں ہی شادی کرلی۔ان کے مطابق ان کے شوہر عابد قریشی محض 25 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور اس وقت ان کے بیٹے فیصل قریشی 8 سال کے تھے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوہر کے انتقال کے بعد بھی اداکاری جاری رکھی اور دوبارہ شادی نہیں کی، ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ شوہر کا جوانی میں ہی انتقال کر جانا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ہر اداکار ڈرامے میں کاسٹ ہونے کے بعد 15 دن تک ریہرسل کرتا تھا لیکن اب اداکار شوٹنگ کے وقت آتے ہیں، کام کرکے چلے جاتے ہیں، اگر واپس پی ٹی وی والا دور آجائے تو آج کل کے اداکار کام ہی نہیں کر سکیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی دوسرے مرد کو محبت کرنے اور اس کا اظہار کرنے کی اجازت ہی نہیں دی، انہوں نے سخت اصولوں کے مطابق زندگی گزاری۔
