kahan hai sahafat kahan hein awazein

ریٹنگ کی دوڑ، صحافت کی موت۔۔

تحریر: میاں زاہد اسلام انجم

کبھی صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا تھا، آج وہ ستون ایک ریٹنگ کی ترازو پر جھول رہا ہے۔

کبھی ایک صحافی کو سچ کی زبان اور ضمیر کی آواز سمجھا جاتا تھا، آج اسے سوپر، کلینر، اور دھوبی جیسے القابات سے پکارا جا رہا ہے—وہ بھی انہی کے ہاتھوں جو خود کو میڈیا کی نئی نسل کے درخشندہ ستارے کہلواتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک خاتون اینکر کی طرف سے پاکستان کے سینئر صحافی سہیل وڑائچ صاحب کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے جنازے کے مترادف ہیں بلکہ اس معاشرتی زوال کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جہاں اختلاف کا مطلب کردار کشی بن چکا ہے۔

اگر یہ اینکر نہ ہوتے تو واش روم صاف کر رہے ہوتے، اس جملے میں موجود زہر اور گھمنڈ نہ صرف اس خاتون کی تربیت پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس پورے میڈیا کلچر کی اصلیت کو ننگا کرتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اب صحافت نہیں ہو رہی، بلکہ ایک “نمائش گاہِ خباثت” بن چکی ہے،

جہاں لفظ بیچنے کی چیز ہے، کردار پامال ہونے والا ہے، اور اخلاقیات… ایک مذاق۔

 ریٹنگ کی ہوس نے انسانوں کو عدد میں بدل دیا ہے۔

 سچ اب وہ ہے جو وائرل ہو، اور عزت وہی جو ٹرینڈ کرے۔

 معاف کیجیے، یہ صحافت نہیں… “سرکس” ہے۔

 یہ مکالمہ نہیں… “بازاری جھگڑا” ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب سے اگر کسی کو اختلاف ہے، ان کے انداز پر سوال ہے،

تو بھی کیا کسی انسان کو یوں ذلیل کیا جا سکتا ہے؟ وہ بھی عوامی پلیٹ فارم پر؟

یہ نہ صحافت ہے، نہ عورت ہونے کی توقیر، نہ مرد کی عزت، نہ قوم کی خدمت—

یہ صرف ریٹنگ کی ننگی دوڑ ہے جس نے سب کو بے لباس کر دیا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ سہیل وڑائچ صاحب کیا ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا بنتے جا رہے ہیں؟

ہم نے اپنے سروں سے بڑوں کی چادریں کھینچ لیں،

ہم نے اپنے قلم سے زہر لکھنا سیکھا،

ہم نے اپنے کیمرے کو تماشا بنانے کی تربیت دی،

اور اب ہم اس پر فخر کر رہے ہیں۔

 اگر یہ صحافت ہے تو خدا را! ہمیں اس کا نیا نام تجویز کرنا ہوگا: “تفریحی بدتمیزی”

اگر اختلاف کرنا ہے تو دلیل سے کرو۔

اگر سینئرز کو چیلنج کرنا ہے تو کام سے کرو۔

اگر ریٹنگ چاہیے تو کم از کم عزت کے ساتھ دو،

کسی کی ماں کے سپوت کو واش روم کلینر نہ بناؤ۔

یاد رکھو:

کل تم بھی پرانے ہو جاؤ گے،

اور تمہارے خلاف بھی یہی زبان استعمال ہو سکتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہوگا کہ تم نے اس دروازے کو خود کھولا تھا۔(میاں زاہد اسلام انجم)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں