معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے بار بار ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے خلاف سیشن کورٹ سے رجوع کرلیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے تیسری بار 28 اگست کو ڈکی بھائی کے چار روزہ ریمانڈ میں توسیع کی تھی۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تیسری بار بھی یوٹیوبر کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی تھی۔این سی سی آئی اے اس وقت ان کے خلاف غیر قانونی آن لائن جوا ایپلی کیشنز کے فروغ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ہفتہ 30 اگست کو ان کے وکیل چوہدری عثمان علی نے لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی، جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا۔عدالت نے این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایجنسی سے پیر کو جواب بھی طلب کرلیا۔ڈکی بھائی کی درخواست کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کرنے سے پہلے حقائق کا مناسب جائزہ نہیں لیا، انہوں نے درخواست کی ہے کہ جسمانی ریمانڈ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ڈکی بھائی 17 اگست کو گرفتاری کے بعد سے این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں، 28 اگست کو لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ان کے جسمانی ریمانڈ کو تیسری بار یکم ستمبر تک بڑھانے کی منظوری دی تھی۔انہیں لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور این سی سی آئی اے لاہور کے ذریعے ریاست کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
