روزنامہ آوازکیا فیملی تنازع کا شکار بنا؟

تحریر: امجد عثمانی۔۔

کچھ دن ہوئے جنگ گروپ کے مالک جناب شکیل الرحمان نے لاہور سے شائع ہونے والا کثیرالاشاعت اور  مقبول ترین اخبار “روزنامہ آواز” بیک جنبش قلم کردیا۔۔۔۔اتنی اچانک کہ 27 سالہ منصوبے کو سمیٹنے میں شاید 27سکینڈ لگے ہوں۔۔۔۔اس اخبار کااپریل  1998 میں اجرا ہوا اور یہ جون 2025 کو بند کر دیا گیا۔۔۔۔یہ دو چار دن کی بات نہیں ربع صدی کا قصہ ہے۔۔۔۔اتنی مدت میں ایک نسل جوان اور دوسری بوڑھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔شاید یہ اخبار میر شکیل کے بھائی جاوید رحمان کا تھا اور شاید یہ کسی فیملی تنازع کا شکار ہوا ہو ورنہ اتنا مقبول اخبار کون بند کرتا ہے۔۔۔ ۔ ؟؟چلیں میر فیملی کا اخبار تھا انہوں نے بند کردیا۔۔۔۔لیکن ملازمین دل گرفتہ ہیں کہ وہ یہ کام کسی قرینے سے کرتے تو اچھا ہوتا۔۔۔۔پرندے بھی گھونسلہ چھوڑتے تڑپ اٹھتے ہیں ،یہ تو پھر انسان تھے۔۔۔۔کچھ پہلے دن کے ملازم۔۔۔دفتر کے درودیوار سے مانوس۔۔۔رات ڈیوٹی کرکے اگلے دن دفتر گئے تو استقبالیہ کلرک نے کہا کہ آپ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے کہ اخبار بند کردیا گیا ہے۔۔۔۔یہ دکھ بھری کہانی سناتے ایک سنئیر دوست کی آواز رندھ گئی۔۔۔محسوس ہوا کہ فون کے اس پار وہ خون کے آنسو پی رہے ہیں۔۔۔میں خود اشک بار ہو گیا۔۔۔۔کہنے لگے 27سال بعد اچھے طریقے سے الوداع ہی کہہ دیتے تو غم قدرے ہلکا ہو جاتا۔۔۔۔سوچنے لگا کہ 27سال میں 324مہینے بنتے ہیں اور 4ویکلی آف نکال دیں تو یہ 8٫324 دن بنتے ہیں….یعنی 27سال نوکری کرنے والے ملازم نے  8٫324 صبحیں۔۔۔8,324 شامیں آواز کو دیں۔۔۔گویا شباب ہی لٹا دیا۔ ۔۔۔آج شب کوئی دوست لاہور پریس کلب میں بتا رہے تھے کہ ایک سنئیر پیج میجر کو چپ ہی لگ گئی ہے۔۔۔۔بولتے ہی نہیں۔۔۔۔خدا جانے یہ بازگشت ڈراؤنا خواب بن کر کب تک سنائی دیتی رہے گی؟؟؟یہی نہیں جنگ انتظامیہ اتنی بائولی ہو گئی کہ ایک مہینہ پہلے انتقال کر جانے والے روزنامہ آواز کے فوٹو جرنلسٹ جناب ناصر رضا کا نام بھی برطرف ملازمین کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔۔۔۔۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کی بیوہ اور بچوں کی اشک شوئی کی جاتے نہ کہ غم کی اس گھڑی میں ان کے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا۔۔۔یہی نہیں جنگ گروپ کے کچھ سب ایڈیٹرز کو بھی کراچی ٹرانسفر کردیا گیا ۔۔۔مطلب فارغ ہی کردیا گیا کہ اتنی تنخواہ میں کون دوسرے شہر جاکر نوکری کرے گا۔۔۔۔۔چلیں میر شکیل کا اخبار تھا انہوں نے بند کر لیا۔۔یہ ان کا حق ہے چاہے وہ کل کو جنگ جیو بھی بند کردیں۔۔۔۔اہک حق جنگ گروپ کے جبری برطرف ملازمین کا بھی ہے اور وہ یہ کہ پہلے نمبر پر تو انہیں ریٹائرمنٹ دی جائے۔۔۔نہیں تو ان کو 20 سے 27 سال کی گریجویٹی دی جائے کہ انہوں نے زندگی ادھر کھپائی ہے۔ ۔۔۔ کچھ دن پہلے میں اپنے ایک رفیق کار سے کہا کہ کیاہم اپنے دوستوں کے حقوق کے باب میں مجرمانہ خاموشی کے مرتکب ہو کر مجرم نہیں بنتے جا رہے۔۔۔۔؟؟روزنامہ آواز کی بندش کی دکھ لیں۔۔۔لاہور میں میڈیا ورکرز کا  اتنا بڑا معاشی قتل عام ہوگیا اور ہو کا عالم ہے۔۔۔۔کاش صحافتی تنظیمیں یک زبان ہو کر بولتیں۔۔۔کہاں گئی فریڈم رپوٹ والی سی پی این ای؟؟؟کاش انسانی حقوق کی باتیں کرنے والے حامد میر صاحب بھی لب کشائی کرتے ۔۔۔اور کوئی نہیں تو جناب سہیل وڑائچ ہی “حرف انکار” کہتے۔۔۔میر شکیل کے کارکن دشمن فیصلے کو “کھلا تضاد” قرار دیتے۔ ۔۔۔۔باقی شکیل صاحب آپ نے 130 ملازمین نہیں نکالے۔۔۔130 خاندانوں کے چولہے بجھائے ہیں۔۔۔۔آواز خلق نقارہ خدا ہوتی ہے اور وہ آپ کے خلاف ہے۔۔۔۔میر خلیل صاحب بھی خالی ہاتھ گئے، آپ بھی کچھ ساتھ نہیں لے جائیں گے۔۔رہے نام اللہ کا جو خالق بھی رازق بھی ہے۔!!!(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں