TV rating muattil channels malikaan aztraab ka shikaar

رمضان المبارک میں پاکستانی ٹی وی چینلز میں ٹی آر پی ریٹنگ کی دوڑ

رمضان المبارک پاکستان میں صرف عبادت، روحانیت اور سماجی ہم آہنگی کا مہینہ نہیں بلکہ ٹیلی ویژن انڈسٹری کے لیے سب سے اہم نشریاتی سیزن بھی ہوتا ہے۔ اس مہینے میں سحر و افطار ٹرانسمیشنز، خصوصی ڈرامے، گیم شوز اور مذہبی پروگرامز کی بھرمار ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے ٹی آر پی ریٹنگ کی سخت دوڑ۔ ہر چینل کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ناظرین کی توجہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرے، کیونکہ رمضان کی ریٹنگز براہِ راست اشتہاری آمدنی سے جڑی ہوتی ہیں۔

سحر و افطار ٹرانسمیشنز: مقابلے کا مرکز

رمضان میں مقابلے کا سب سے بڑا میدان سحر اور افطار ٹرانسمیشنز ہوتی ہیں۔ بڑے چینلز معروف میزبانوں، علما اور اسکالرز کو مدعو کر کے خصوصی پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات، فقہی مسائل، سماجی موضوعات اور لائیو کالز کے ذریعے ناظرین کو شامل کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی قرعہ اندازی، انعامات اور اسپانسرڈ سیگمنٹس پروگرام کا حصہ بنتے ہیں، جو ریٹنگ بڑھانے کا مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

کئی چینلز معروف اینکرز اور شوبز شخصیات کو بھی مذہبی ٹرانسمیشنز کی میزبانی سونپتے ہیں تاکہ ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بعض اوقات یہی حکمت عملی ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جبکہ بعض مواقع پر اس پر تنقید بھی سامنے آتی ہے کہ مذہبی پروگرامز کو غیر ضروری طور پر تفریحی رنگ دیا جا رہا ہے۔

ڈراموں اور اسپیشل ٹرانسمیشن کا کردار

رمضان اسپیشل ڈرامے بھی ٹی آر پی کی دوڑ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہلکے پھلکے، خاندانی اور رومانوی کہانیوں پر مبنی ڈرامے افطار کے بعد نشر کیے جاتے ہیں تاکہ پورا خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکے۔ بعض چینلز خصوصی سیریز یا محدود اقساط پر مشتمل ڈرامے پیش کرتے ہیں، جو کم وقت میں زیادہ مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ کوئز شوز اور گیم شوز بھی اس مہینے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ بڑی انعامی اسکیمیں، موٹر سائیکلیں، عمرے کے ٹکٹ اور نقد رقوم جیسے انعامات ناظرین کو اسکرین سے جوڑے رکھتے ہیں۔ یوں مذہبی اور تفریحی مواد کا امتزاج ریٹنگ کی حکمت عملی کا حصہ بن جاتا ہے۔

اشتہارات اور معاشی پہلو

رمضان میں اشتہاری منڈی عروج پر ہوتی ہے۔ اشیائے خوردونوش، مشروبات، موبائل نیٹ ورکس، بینکنگ سروسز اور فیشن برانڈز اپنے خصوصی رمضان پیکجز متعارف کرواتے ہیں۔ چونکہ اس مہینے میں ناظرین کی تعداد بڑھ جاتی ہے، اس لیے اشتہارات کی شرح بھی عام دنوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے چینلز رمضان ٹرانسمیشن پر خصوصی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

تاہم ریٹنگ کی اس دوڑ میں بعض اوقات مواد کا معیار متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہبی مہینے میں پیش کیے جانے والے پروگرامز سنجیدگی، احترام اور اخلاقی حدود کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جائیں، نہ کہ صرف تجارتی مفادات کو ترجیح دی جائے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا اثر

حالیہ برسوں میں یوٹیوب، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے بھی رمضان ٹرانسمیشن کی دوڑ کو متاثر کیا ہے۔ اب ٹی وی چینلز اپنی نشریات کو بیک وقت سوشل میڈیا پر بھی نشر کرتے ہیں تاکہ آن لائن ویورشپ کو بھی ریٹنگ اور ریونیو میں تبدیل کیا جا سکے۔ کئی میزبانوں کے کلپس وائرل ہو کر پروگرام کی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

نتیجہ

رمضان المبارک میں ٹی آر پی ریٹنگ کی دوڑ پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کے معاشی ڈھانچے کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ایک طرف چینلز زیادہ سے زیادہ ناظرین اور اشتہارات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مواد کی روحانیت اور سنجیدگی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریٹنگ کی مسابقت کے ساتھ ساتھ معیاری، بامقصد اور ذمہ دارانہ نشریات کو بھی ترجیح دی جائے، تاکہ رمضان المبارک کی اصل روح برقرار رہے اور ناظرین کو مثبت اور تعمیری مواد میسر آ سکے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں